خطباتِ ناصر (جلد3 ۔ 1970ء، 1971ء)

by Hazrat Mirza Nasir Ahmad

Page 361 of 586

خطباتِ ناصر (جلد3 ۔ 1970ء، 1971ء) — Page 361

خطبات ناصر جلد سوم ۳۶۱ خطبه جمعه ۲/اکتوبر ۱۹۷۰ء کے مطابق پورے ہونے چاہئیں ورنہ شوری کے فیصلے کے مطابق کام نہیں ہوسکتا۔کیونکہ یہ اسی طرح ہے جس طرح ہم سانس لیتے ہیں اس کا ہمیں کوئی احساس بھی نہیں ہوتا یعنی جس کے لئے ہمیں کوئی کوفت اٹھانے کی ضرورت نہیں ہم سانس لے رہے ہیں اور تازہ دم ہور ہے ہیں لیکن ہمیں اس کا احساس نہیں ہوتا پھر دل کی حرکت ہے یہ دوسری مثال ہے دل کی حرکت مسلسل جاری ہے لیکن اس کا بھی ہمیں احساس نہیں ہوتا کہ دل دھڑک رہا ہے اور اس کے دھڑ کنے کے نتیجہ میں ہم زندہ رہ رہے ہیں۔یہ جو ROUTINE ( روٹین ) کے کام ہیں یہ صحت مند طریقے سے پختگی کے ساتھ جاری رہنے چاہئیں ان چندوں کی طرف جماعت کو تو جہ دینی چاہیے فضل عمر فاؤنڈیشن کے عطایا کی وصولی کا کام تو اب نہیں ہو رہا جو انہوں نے کام اپنے ذمہ لئے ہیں ان کی طرف انہیں توجہ دینی چاہیے اور جماعت کو بھی یاد دہانی کراتے رہنا چاہیے یہ بھی بڑی قربانی جماعت کی طرف سے تھی۔اب یہ نصرت جہاں ریز روفنڈ ہے میرے دل میں یہ خواہش پیدا ہوئی تھی کہ خلافت احمد یہ پر باسٹھ سال کے قریب گزر چکے ہیں جماعت طاقت رکھتی ہے کہ اگر بشاشت سے ہمت کر کے کام کرے تو باسٹھ لاکھ روپیہ ایک لاکھ روپیہ فی سال کے حساب سے نصرت جہاں ریز روفنڈ میں جمع ہو جانا چاہیے۔اس وقت تک جو وعدے ہوئے ہیں وہ پیچیش لاکھ سے اوپر پاکستان کے ہیں اور کوئی بارہ لاکھ کے قریب بیرون پاکستان کے ہیں۔بیرون پاکستان کے لحاظ سے یہ نسبت بہت اچھی ہے باسٹھ لاکھ کی حد میں سے باقی رہ جاتے ہیں چوبیس پچیس لاکھ لیکن باہر کی جماعتوں میں بعض کا ابھی مجھے علم نہیں مثلاً میں نے کہا تھا امریکہ کی جماعت سے کہ تیس ہزار ڈالر دو اس فنڈ میں۔اسی طرح غانا ہے لیگوس ہے۔لیگوس کے تو غالباً بیس ہزار پاؤنڈ کے قریب یعنی ایک لاکھ ستر ہزار یا دولاکھ کے قریب وعدے ہو چکے ہیں۔اسی طرح غانا کو میں نے کہا تھا کہ دولا کھ دو۔ان کے انشاء اللہ تعالی زیادہ ہو جائیں گے پھر افریقہ کے دوسرے ممالک ہیں یا دنیا کے دوسرے ممالک ہیں۔مجھے امید ہے کہ انشاء اللہ تعالیٰ ہیں لاکھ سے زائد یہ رقم بن جائے گی گو اس وقت تک چودہ لاکھ کے وعدے باہر سے آئے ہیں اس کا مطلب یہ ہے کہ بیالیس لاکھ کے وعدے اور رقوم