خطباتِ ناصر (جلد3 ۔ 1970ء، 1971ء)

by Hazrat Mirza Nasir Ahmad

Page 358 of 586

خطباتِ ناصر (جلد3 ۔ 1970ء، 1971ء) — Page 358

خطبات ناصر جلد سوم ۳۵۸ خطبه جمعه ۱٫۲ کتوبر ۱۹۷۰ء ہیں۔جو خدا کی مرضی کے خلاف چل رہا ہے یقیناً وہ قابلِ رحم ہے یہ کوئی فخر کی بات نہیں ہے کہ میری مرضی اور ہے اور اللہ تعالیٰ کی مرضی جو ہو ، ہوتی رہے۔یہ جنون کی کیفیت تو کہلاسکتی ہے شرافت کا تقاضا نہیں کہلا سکتا ہمیں نہ گھبرانے کی ضرورت ہے نہ فکر کی ضرورت ہے بعض نوجوان جن کو پورا یقین نہیں ہوتا وہ گھبرا بھی جاتے ہیں کہ اب کیا ہوگا۔کئی نسلیں گزرگئی ہیں اور ہر نسل میں سے ایسے آدمی پیدا ہوتے رہے ہیں (احمدیت کے اندر ) کہ جو کہتے ہیں کہ اب کیا ہوگا تو اب کیا ہوگا“ کا نتیجہ وہی ہوگا جو خدا چاہے گا اور خدا نے یہی چاہا ہے کہ احمدیت ترقی کرتی چلی جائے۔سب سے پہلے تو حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام پر کفر کے فتوے اور سارے اسی ٹائپ کے دوسرے فتوے اس وقت لگے تھے جب ایک آدمی بھی آپ کی بیعت میں داخل نہ تھا دوسو علماء نے کفر کا فتوی لگا دیا اور اس وقت ایک شخص نے بھی بیعت نہ کی تھی اب دوسو کفر کے فتوے اگر سمجھ لئے جائیں وہ جو دو سوفتو ے کفر کے اس وقت لگائے گئے تھے اور کہا گیا تھا کہ اسے مارو۔اس وقت ان کو یہ بھی خیال نہ آیا کہ ماروکس کو ایک ہی تو آدمی ہے تمہارے سامنے ہمت ہے تو اسے مارلوشور مچانے کی بھی ضرورت نہیں لیکن بہر حال دوسوفتووں کے مقابلہ میں اللہ تعالیٰ نے حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کو کتنا کچھ اور کتنے دے دیئے۔ہمارے ویسٹ افریقہ میں دوسو کفر کے فتوؤں کے مقابلہ میں کئی لاکھ احمدی ہیں۔ویسٹ افریقہ سات ہزار میل دور ہے۔بڑی دیر کے بعد ہم ان کے پاس پہنچے ہیں یہاں تو جو پچاس فیصدی کی حد تک احمدی ہے وہ ( میرا خیال ہے ) پاکستان میں دو کڑور سے کم نہیں ہوگا۔اور جو پچھتر فیصدی کی حد تک احمدی ہے وہ بھی ایک کڑور سے کم نہیں ہے باقی جو سو فیصدی احمدی ہیں وہ جو دعویٰ کرتے ہیں کہ ہم احمدی ہیں ان کے دعوی کے مطابق خدا کرے ان کی زندگیاں ہوں تعداد کے لحاظ سے وہ بھی کم نہیں ہیں۔جب ساری دنیا کہہ رہی تھی اس ایک شخص کو جب اس کا ایک ہی سہارا تھا یعنی اللہ تعالیٰ کی ذات) کہ تجھے ہم نیست و نابود کر دیں گے اُس وقت اس کے ساتھ ایک آدمی بھی نہیں تھا حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے فرمایا کہ ابھی میں نے بیعت لینی شروع نہ کی تھی کہ دوسو مولویوں کا مجھ پر فتویٰ لگ گیا تھا۔اس لحاظ سے اک سے ہزار ہو دیں تو آپ بعد میں آنے والوں کے لیے دعا کر گئے تھے لیکن ہوا یہ کہ