خطباتِ ناصر (جلد3 ۔ 1970ء، 1971ء) — Page 357
خطبات ناصر جلد سوم ۳۵۷ خطبه جمعه ۱٫۲ کتوبر ۱۹۷۰ء کے ساتھ اس مرض کا علاج کرنا چاہیے۔بہت دعائیں کرنی چاہئیں کہ اللہ تعالی پاکستانی کو سمجھ عطا کرے اس کو پتہ لگ جائے کہ قرآن کریم کی تعلیم کی رو سے فساد خدا تعالیٰ کو پیارا نہیں ہے اور جو چیز خدا تعالیٰ کو پیاری نہ ہو وہ اس کے بندے کو پیاری ہو جائے تو اس بندے کی بدقسمتی ہے اگر اس کو سمجھ آجائے تو اسے بچنا چاہیے اس چیز سے اور اگر اس سے ہمدردی رکھنے والے اور غمخواری رکھنے والے کو سمجھ آ جائے تو اس کا فرض ہے کہ اس کو محفوظ رکھے اس فساد سے عذاب اور ہلاکت سے۔تو دعاؤں کے ذریعہ اپنے ملک کی فضا کو پاک فضا بنانے کی ذمہ داری کو سمجھو اور اسے پورا کر نے کی کوشش کر و۔اللہ تعالیٰ آپ کے ساتھ ہو اور آپ کو اس کی توفیق عطا کرے۔میں نے بتایا ہے کہ ہم کسی کے بھی دشمن نہیں۔بعض نا سمجھ افراد یا بعض نا سمجھ پارٹیاں کہہ دیا کرتی ہیں کہ ہم کو جب بھی طاقت ملی احمدیوں کو قتل کر دیں گے اس پر بھی ہمیں غصہ نہیں آتا ہمیں واجب القتل قرار دیں اور اس کا اعلان کر دیں تو ہمیں غصہ نہیں آتا اس لئے کہ ہمارے رب نے ہمیں کہا ہے اور بڑے پیار کے ساتھ کہا ہے کہ کسی ماں نے وہ بچہ نہیں جنا جو احمدیت کو ہلاک کر دے اور نیست و نابود کر دے اس واسطے جو چیز ہونی نہیں جب دعویٰ ایسی چیز کا ہو تو نہ ہمیں فکر کرنے کی ضرورت ہے نہ ہمیں غصہ کرنے کی ضرورت ہے۔ہمارے دل میں رحم کا جذبہ پیدا ہونا چاہیے کہ ان کا تخیل اور ان کا منصو بہ اللہ تعالیٰ کے فیصلہ اور اللہ تعالیٰ کے منصوبہ کے خلاف ہے اور ہر اس شخص پر ہر احمدی کو رحم آنا چاہیے اور اس رحم کے نتیجہ میں پیار کے ساتھ اور ہمدردی کے ساتھ اور محبت کے ساتھ اُس کو سمجھانا چاہیے کہ جدھر خدا کا منشا ہے ادھر چلنے کی کوشش کر و خدا کے حکم اور فیصلہ کے خلاف اپنے اوقات اور اموال منصوبوں اور عقل اور ذہن کو ضائع نہ کرو۔ہمارے بعض مخالف گالیاں دیتے ہیں (اکثریت تو اللہ کے فضل سے شریف ہے اور سمجھدار ہے اس واسطے وہ اپنی شرافت کے نتیجہ میں اور اپنی فراست کے نتیجہ میں اس قسم کی گندہ دہنی سے کام نہیں لیتے لیکن بعض حصہ لیتے ہیں اس کا تو انکار نہیں کیا جاسکتا ) ہمارے قومی اخباروں کے پچھلے سال کے فائلوں میں بہت سارے آدمیوں کی طرف بعض غلط بیان منسوب ہوئے ہیں جن کی ان اخباروں نے کوئی تردید نہیں کی تو جو ایسی باتیں کرتے ہیں ان کے خلاف بھی ہمیں کوئی غصہ نہیں وہ قابلِ رحم