خطباتِ ناصر (جلد3 ۔ 1970ء، 1971ء)

by Hazrat Mirza Nasir Ahmad

Page 356 of 586

خطباتِ ناصر (جلد3 ۔ 1970ء، 1971ء) — Page 356

خطبات ناصر جلد سوم ۳۵۶ خطبه جمعه ۱۲ اکتوبر ۱۹۷۰ء اصلاح بھی ایک خاص جذبہ کا تقاضا کرتی ہے اس کے بغیر انسان دوسروں کی اصلاح نہیں کر سکتا اور اس جذ بہ کوقرآن کریم کی اصطلاح میں ”بخع“ کا نام دیا گیا ہے تو دشمنی نہیں بلکہ بخع کی کیفیت پیدا ہونی چاہیے جس میں دوسرے کی عزت کا بھی خیال رکھنا ہے اس کی اصلاح کا بھی خیال رکھنا ہے کہ جَادِلُهُمْ بِالَّتِي هِيَ أَحْسَنُ (النحل: ۱۲۶) کا خیال بھی رکھنا ہے اگر ہم اپنے مقام کو پہنچا نہیں تو صرف ہم ہیں جن کے کندھوں پر اصلاح کی ذمہ واری ڈالی گئی ہے اگر نہ پہچا نہیں تو یہ ہماری بدقسمتی ہے۔لیکن اگر ہم اپنے مقام کو پہچانیں تو صرف ہم ہیں جو اس فتنہ کو دور کرنے اور اس تلخی کو مٹانے کی اہلیت رکھتے ہیں ایک تو ہماری زبان پر تسلی نہیں آنی چاہیے ہمارے دل میں یہ جذبہ پیدا ہونا چاہیے کہ فساد مٹ جائے اور تلخی زائل ہو جائے اور پھر جو تد بیر اللہ تعالیٰ نے ہمیں بتائی ہے اس کی طرف ہمیں متوجہ ہونا چاہیے اور اگر ہم یہ ظاہر کر دیں اور عملاً ثابت کر دیں کہ ہم کسی کے دشمن نہیں تو جس کے ہم دشمن نہیں وہ ہماری بات سننے کے لئے تیار ہو جائے گا انسانی فطرت کے اندر یہ بات داخل ہے کہ وہ اپنے دوست کا خیال رکھتا ہے اس کی بات سننے کے لئے تیار ہو جاتا ہے لیکن سب سے زیادہ زبردست ہتھیار اور بہت ہی اہم چیز جو ہمیں دی گئی ہے وہ دعا ہے اور دعا کا ہتھیار ہے ہم جس رنگ میں دعا پر ایمان اور یقین رکھتے ہیں وہ رنگ الا مَا شَاءَ اللہ افراد میں بعض جگہ ہو گا لیکن بحیثیت جماعت کسی اور جماعت میں نظر نہیں آتا۔ہم اس یقین پر قائم کئے گئے ہیں کہ اللہ تعالیٰ تمام طاقتوں کا مالک ہے اور کوئی چیز بھی اس کے آگے انہونی نہیں ہے اور اس طرح پر ہمیں یہ امید دلائی گئی ہے کہ ہم اپنے کام میں کامیاب ہو نگے خواہ فتنہ کتنا ہی بڑھا ہوا کیوں نہ ہوا اگر ہم دعا کے ذریعہ عرشِ الہی تک پہنچنے کی کوشش کریں گے تو اللہ تعالیٰ ہمیں اس رنگ میں دعائیں کرنے کی توفیق دے گا کہ وہ اس کے حضور قبول ہو جا ئیں پھر ہم اس فتنہ کو دور کرنے کے قابل ہو جائیں گے کیونکہ ہم تو لاشے محض ہیں لیکن جس ہستی سے ہمارا تعلق ہے وہ تمام قدرتوں اور طاقتوں کا مالک اور سرچشمہ ہے۔ہم دعا کے ذریعہ اپنے ملک کی تلخی کو دور کرنے کی اہلیت رکھتے ہیں ہمیں اس طرف متوجہ ہونا چاہیے کیونکہ جس چیز کا علاج صرف ہمارے پاس ہے اگر وہ علاج ہم نہ کریں تو پھر مریض جو ہے اس کو شفا نہیں ہوسکتی۔پس دعاؤں