خطباتِ ناصر (جلد3 ۔ 1970ء، 1971ء)

by Hazrat Mirza Nasir Ahmad

Page 339 of 586

خطباتِ ناصر (جلد3 ۔ 1970ء، 1971ء) — Page 339

خطبات ناصر جلد سوم ۳۳۹ خطبہ جمعہ ۱۱ ستمبر ۱۹۷۰ء کمزوری پیدا ہو جائے گی اور اللہ تعالیٰ اسے پسند نہیں کر سکتا کیونکہ یہ اس کی مشیت کے خلاف ہے کہ شیطانی طاقتیں کامیابی کا منہ دیکھیں۔پس حسد کے نتیجہ میں جماعت احمدیہ کی Activities یعنی اس کی سرگرمیوں اور منصوبوں میں انشاء اللہ تعالیٰ کوئی کمزوری نہیں پیدا ہو سکتی لیکن حسدا اپنی جگہ پر صحیح ہے اور اس کے مقابلے میں تدبیر کرنا ضروری ہے اور ہمارے ہاتھ میں ایک ہی تدبیر ہے اور وہ ہے دعا کی تدبیر۔اس واسطے میں جماعت کو یہ یاد دہانی کرانا چاہتا ہوں کہ اپنی عاجزی کا اپنے اندر پورا احساس پیدا کرتے ہوئے نہایت انکساری کے ساتھ اپنے رب کے حضور جھکیں اور اپنے مولا سے یہ عرض کریں کہ تو نے ہمیں غلبہ اسلام کے لئے پیدا کیا اور تو نے ہمیں یہ توفیق دی کہ ہم تیری راہ میں تیرے ہی دیئے ہوئے مال میں سے کچھ پیش کر سکیں تا کہ تیرا جو ارادہ ہے وہ اس دنیا میں پورا ہو۔اسلام غالب ہو اور خدا کرے جلد غالب ہولیکن تیرے اپنے بنائے ہوئے قانون اور تیری اپنی دی ہوئی بشارت اور پیشگوئی کے مطابق حاسد پیدا ہورہے ہیں وہ ہم سے زیادہ طاقتور ہیں مادی سامانوں کے لحاظ سے، وہ ہم سے امیر ہیں دنیوی دولت کے لحاظ سے، وہ ہم سے زیادہ طاقتور ہیں اپنے جتھے کی کثرت کے لحاظ سے لیکن دنیا کی ساری دولتیں اور دنیا کے سارے اقتدار اور دنیا کی ساری طاقتیں تیرے ارادہ کے مقابلے میں کھڑی نہیں ہوسکتیں۔ہمیں اپنی کمزوریوں کا اعتراف ہے ہم تیرے عاجز بندے ہیں ہم خطائیں بھی کرتے ہیں مگر تیری طرف ہی آتے ہیں، تیری طرف ہی رجوع کرتے ہیں اور توبہ و استغفار بھی کرتے ہیں تو ہمارے گناہ بخش دے اور ہماری کمزوریوں کو دور کر دے اور ان حاسدوں کو ان کے ارادوں میں نا کام کر۔پس دعائیں کریں۔اللہ تعالیٰ بڑا پیار کرنے والا اور دعائیں قبول کرنے والا ہے انفرادی طور پر قربانیاں دینے والے موجود ہونے چاہئیں۔اجتماعی طور پر جماعت اس مقام پر کھڑی ہونی چاہیے کہ حاسدوں کا حسد کچھ نہ کر سکے اور طاقتور کی طاقت ہمارے خلاف کامیاب نہ ہو سکے۔إن كُنتُم مُّؤْمِنِینَ کی شرط تو دور نہیں کی جاسکتی کیونکہ قرآن کریم کی کوئی آیت یا اس کا کوئی ٹکڑا منسوخ نہیں کیا جا سکتا۔اس قسم کی شرائط تو بہر حال قائم رہیں گی ایمان کی پختگی تو ضروری ہے اگر وہ ایمان جو حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے ذریعہ سے ہمیں ملا ہے یعنی صفات باری