خطباتِ ناصر (جلد3 ۔ 1970ء، 1971ء)

by Hazrat Mirza Nasir Ahmad

Page 324 of 586

خطباتِ ناصر (جلد3 ۔ 1970ء، 1971ء) — Page 324

خطبات ناصر جلد سوم ۳۲۴ خطبہ جمعہ ۴ ستمبر ۱۹۷۰ء اس قسم کی بشارت تھی۔اب پہلے یہ فرمایا کہ رسید مژده که ایام نو بہار آمد یعنی ایک بہار پہلے آچکی ہے اور نئی بہار آرہی ہے۔یہ خوشخبری ہمیں ۸ کو ملی اور بارہ تاریخ کو اللہ تعالیٰ نے آپ کو الہام فرما الَا تَيْتَسُوا مِنْ خَزَائِنِ رَحْمَةِ رَبِّى ابھی تک جو مسلمان احمدی نہیں ہوئے ان پر تنزلی کا زمانہ ہے وہ بڑے مایوس ہیں۔مایوس ہونا بھی چاہیے کیونکہ ہر طرف الہی وعدوں کے خلاف تنزلی اور بے عزتی کے حالات میں سے وہ گزر رہے ہیں۔اللہ تعالیٰ انہیں معاف کرے اور انہیں ہدایت دے۔لَا تَيْنَسُوا مِنْ خَزَائِنَ رَحْمَةِ رَبّی میں اللہ تعالیٰ نے جماعت احمدیہ کو مخاطب کر کے حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے ذریعہ یہ فرمایا کہ اس کی رحمت کے خزانے جو کوثر کی شکل میں اس سے پہلے آئے تھے وہ اب پھر آنے والے ہیں۔پس اللہ تعالیٰ کی رحمت کے خزائن سے تم مایوس نہ ہو۔اِنَّا أَعْطَيْنَكَ الْكَوْثَرَ یہ اسی الہام کا ایک حصہ ہے کیونکہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے روحانی فرزند ہیں۔اس لئے ہم اس کا ترجمہ یوں کریں گے کہ وہ کوثر جو حضرت نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو عطا ہوا تھا اس کا تمہیں پھر سے مہتمم بنا کر مبعوث کیا ہے۔اس کوثر کا اہتمام ہے۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے بڑے زور سے فرمایا ہے ”سب کچھ تیری عطا ہے گھر سے تو کچھ نہ لائے، پس فرمایا کہ اللہ تعالیٰ کی رحمت کے جو خزانے دنیا نے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانے میں اسلام کی نشاۃ اولی میں حاصل کئے اور آسمان سے نازل ہوتے دیکھے۔دنیا اب وہی جماعت احمدیہ کی شکل میں دوبارہ دیکھے گی کیونکہ کوثر کا مہتمم حضرت مسیح موعود و مہدی معہود علیہ السلام کو بنا دیا گیا ہے۔پھر اپریل ۱۹۰۵ء میں اللہ تعالیٰ نے آپ کو بذریعہ وحی یہ خبر دی کہ جب اس قسم کا الہی سلسلہ اُمت محمدیہ کے اندر اسلام کی نشاۃ ثانیہ کے طور پر اسلام کو ساری دنیا میں غالب کرنے کے لئے قائم ہوگا۔دنیا اس کی مخالفت کرے گی اور وہ اس میں ناکام ہوگی۔یہ ایک واقعہ ہے ایک بشارت ہے۔پس دنیا کی مخالفت ضروری تھی اور ساری دنیا نے دیکھی۔دنیا کی ساری طاقتیں حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کی آواز کو خاموش کرنے کے لئے متحد ہو گئیں اور دنیا کی سب طاقتیں متحد ہونے کے باوجود نا کام ہوئیں اور وہ آواز خاموش نہیں کی جاسکی۔وہ آواز گونج رہی ہے اور