خطباتِ ناصر (جلد3 ۔ 1970ء، 1971ء) — Page 16
خطبات ناصر جلد سوم ۱۶ خطبہ جمعہ ۹/ جنوری ۱۹۷۰ء جیسا کہ میں نے بتایا ہے ربوہ میں رہنے والوں کی بڑی بھاری اکثریت ایسی ہے کہ دنیا کی کوئی چیز اُن کی قیمت نہیں ٹھہر سکتی اگر دنیا کے سارے ہیرے اور جواہر بھی اکٹھے کئے جائیں تو ہمارے ایک آدمی کی ان سے زیادہ قیمت ہے لیکن ایک بدصورت اور بے قیمت پتھر کو ہم ان جواہرات میں شامل نہیں رکھ سکتے اور میں سمجھتا ہوں کہ اگر کسی وقت ضرورت پڑی تو سارا ربوہ ( ظاہری طاقت کا استعمال مراد نہیں ) نفرت کا اس رنگ میں اظہار کرے گا کہ پھر ایسے خاندان کو یہاں رہنا مشکل ہو جائے گا۔احمدی مسلمان ایک عجیب قوم ہے جو اللہ تعالیٰ نے غلبہ اسلام کے لئے پیدا کی ہے لیکن جیسا کہ سنت الہی ہے۔الہی سلسلوں کے ساتھ نفاق لگا رہتا ہے اسی طرح کمزوری ایمان بھی ساتھ لگی ہوئی ہے جہاں تک کمزوری ایمان کا سوال ہے یہ نہ تو بھیا نک ہے اور نہ ہمیں اس کی اس لحاظ سے کوئی فکر ہے کہ جماعت میں کوئی خرابی پیدا ہو جائے گی گوہمیں اس لحاظ سے فکر ہے کہ کمزور ایمان والوں کی تربیت ہونی چاہیے کمزوری ایمان اعتقادی ہو یا عملی صرف اس لئے ہوتی ہے کہ ہم نے ایک شخص کی صحیح تربیت نہیں کی۔نئے نئے لوگ جو باہر سے آکر جماعت میں شامل ہوتے ہیں یا جو جماعت میں پیدا ہوتے ہیں وہ تربیت کے محتاج ہوتے ہیں اگر ان کی تربیت ہو جائے ( اور ضرور ہونی چاہیے ) تو جو حالت زید کی مثلاً احمدیت میں داخل ہونے سے دس سال کے بعد ہوئی ہے وہی حالت آج آنے والوں کی دس سال کے بعد ہو جائے گی۔نئے آنے والے جو ہمیں کمزور ایمان نظر آتے ہیں دس سال کے بعد ان کے ایمان پختہ ہو جائیں گے کیونکہ ہر چیز کی پختگی وقت کا مطالبہ کرتی ہے مثلاً اگر ہم نے صحن میں مٹی ڈال کر اس پر اینٹیں لگانی ہوں تو مٹی ڈالنے کے بعد ” کو ٹائی کرنی پڑتی ہے یہ نہیں کہ ایک مزدور مٹی ڈالتا جائے اور ساتھ ساتھ ایک معمار فرش لگاتا جائے بعض دفعہ لوگ اس قسم کی غلطی کر جاتے ہیں اس لئے ان کو بعد میں تکلیف اُٹھانی پڑتی ہے کیونکہ اینٹیں بیٹھ جاتی ہیں۔اس فرش کو پختہ شکل کرنے کے لئے اور اسے اس بوجھ کو سنبھالنے کے قابل بنانے کے لئے جو اس پر اینٹوں کا اور چلنے والوں کا پڑنا ہے وقت کی ضرورت ہوتی ہے اگر فوری طور پر آپ نے مگدر سے ” کو ٹائی کر دی تو شاید وہ فرش ایک دن میں پختہ ہو جائے