خطباتِ ناصر (جلد3 ۔ 1970ء، 1971ء) — Page 264
خطبات ناصر جلد سوم ۲۶۴ خطبہ جمعہ ۷ راگست ۱۹۷۰ء پس معلوم ہوا یہ بہت پرانے صحابہ میں سے تھے کیونکہ بدر میں گل ۳۱۳ صحابہ شامل ہوئے تھے اور یرموک کی جنگ تک بہت سے ویسے ہی وفات پاگئے ہو نگے۔میں نہیں کہہ سکتا کہ اس دن بدری صحابہ میں سے باقی کتنے موجود ہونگے لیکن اگر فرض کر لیں کہ سارے موجود تھے تب بھی ۳۱۳ کی اس ابتدائی جماعت میں سے جو شروع سے ایمان لائے اور ساری جنگوں میں آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ شامل ہوئے ان ۱۳ ۳ میں سے ایک سو صحابی یعنی ایک تہائی یہاں شہید ہو گئے یہ چوٹی کے صحابہ تھے اور اُمت مسلمہ کی جان تھے اس وقت اگر یہ نہ ہوتے تو اللہ تعالیٰ شاید کسی اور رنگ میں فضل کرتا اس کے فضل کے جو دروازے ہیں ان کا تو کوئی شمار نہیں لیکن ظاہری حالات میں یہ لوگ جو تھے ان کے ساتھ جب دوسروں پر نگاہ ڈالتے ہیں تو ان میں ان جیسی ہمت نظر نہیں آتی کہ یرموک کی جنگ یا ایران کی دوسری جنگیں یا قیصر روم کے ساتھ دوسری جنگیں جیت سکتے۔ان پرانے صحابہ میں سے بسا اوقات ایک ایک آدمی جنگ جیت جاتا تھا۔ایک دفعہ مسلمانوں نے ایک قلعہ کا محاصرہ کیا۔وہ Surrender (سرنڈر) نہیں کر رہے تھے حالانکہ ایسی صورت میں دشمن کے ساتھ اسلام نے بڑی نرمی دکھائی ہے کہا ہے یا اسلام لے آؤ تمہیں ہر قسم کی برکتیں ملیں گی دین کی بھی اور دنیا کی بھی اور اگر تمہارے دل میں اسلام کی صداقت پوری طرح واضح نہیں ہوئی تو پھر جزیہ دے دو ہماری امان میں آجاؤ تم ہماری حفاظت میں ہو گے اور اس کا کرایہ سمجھ لو جس طرح کرایہ پر آدمی ٹیکسی لیتا ہے اسی طرح ہماری تلوار میں تمہاری حفاظت کریں گی تم ہمیں تھوڑا سا جزیہ دے دو یعنی ہر آدمی کو جزیہ کے طور پر سال میں چند روپے دینے پڑتے تھے۔اسلام نے جزیہ کی بہت نرم شرائط رکھی ہیں مگر یہ جزیہ دینے کے لئے بھی تیار نہیں تھے اور لڑتے بھی نہیں تھے قلعہ بند ہو کر بیٹھ گئے تھے مسلمان تنگ آگئے چونکہ وہ عملی زندگی کے عاشق تھے اگر چار پانچ دن بھی کوئی معرکہ نہ ہوتا تھا تو وہ بے چین ہو جاتے تھے کیونکہ دوسرے روحانی معرکوں سے تو وہ دور آئے ہوئے تھے اور اب میدانِ جنگ میں پڑے ہوئے تھے۔چنانچہ ایک دن ان پرانے صحابہ میں سے ایک بزرگ نے اپنے ساتھیوں سے کہا کہ ہم