خطباتِ ناصر (جلد3 ۔ 1970ء، 1971ء)

by Hazrat Mirza Nasir Ahmad

Page 257 of 586

خطباتِ ناصر (جلد3 ۔ 1970ء، 1971ء) — Page 257

خطبات ناصر جلد سوم ۲۵۷ خطبہ جمعہ ۳۱ جولائی ۱۹۷۰ء تمہیں اپنا تعلق اپنے پیدا کرنے والے رب سے مضبوط کرنا پڑے گا اور اپنی ساری طاقت اس سے حاصل کرنی پڑے گی اور اپنے نفس کو مارنا پڑے گا اور ایک نئی زندگی اس سے پانی پڑے گی۔تب تم جا کر اس میدان میں فتح حاصل کر سکتے ہو۔ورنہ نہیں کر سکتے تو ہمارے جو مبلغ ہیں اور رضا کار ہیں ان کو اس طرف توجہ دینی چاہیے ورنہ ان کا وجود ایک ناکارہ وجود ہے بے ثمر وجود ہے جس کا کوئی نتیجہ نہیں نکل سکتا اور نہ ہی نکل رہا ہے۔ایسے جو ہیں۔لیکن اگر اللہ تعالیٰ سے ہمارا پختہ تعلق ہو اور اگر ساری طاقتوں کا منبع اور سر چشمہ ہم اس ذات کو سمجھیں اور اس کے حضور عاجزانہ جھک کر اور اپنے پر ایک موت وارد کر کے اس کو کہیں کہ اے خدا ہمارا کچھ نہیں ہماری زندگی بھی نہیں ہم ایک مردہ لاشہ کی طرح ہیں لیکن ہم تیرے دین کے غلبہ کے لئے اپنی خدمات کو پیش کرتے ہیں۔تو ہمیں نئی زندگی اور نئی طاقت اور نئی فراست کے نور سے ہمارے سینوں کو بھر دے اور ہم میں وہ برکت ڈال۔جس برکت کا تو نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی روحانی قوت کے نتیجہ میں حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام سے وعدہ کیا۔اگر اس طرح ہم اللہ تعالیٰ سے زندہ تعلق کو پیدا کرسکیں اور ساری طاقتیں اس کے قدموں میں پھینک کر اس سے طاقت حاصل کریں تو ہم کامیاب ہو سکتے ہیں۔ورنہ ہم کامیاب نہیں ہو سکتے تو جو نئے آنے والے ہیں ان کو بھی میری یہ نصیحت ہے اور جو پرانے آئے ہوئے ہیں ان کو بھی میں یہ یاد دلانا چاہتا ہوں کہ تمہارے اندر کوئی ایسی طاقت نہیں ہے کہ تم عظیم جہاد میں کامیاب جرنیل ثابت ہو سکو۔اگر تم نے اللہ تعالیٰ کی رضا کو حاصل کرنا اور دنیا میں اپنے مقصود کو پانا ہے اور اگر تم چاہتے ہو کہ واقع میں اسلام دنیا میں غالب آ جائے تو اپنے اوپر ایک موت وارد کر کے اپنے رب سے ایک نئی زندگی پاؤ۔تب تم واقع میں اللہ تعالیٰ کی رضا اور اس کی جنت کو بھی پاؤ گے اور دنیا میں آنے والی نسلیں تمہیں عزت اور احترام کے ساتھ یا دکریں گی۔ورنہ جس طرح دنیا ابی ابن سلول کو نہیں بھولی تم میں سے بعض کو نہیں بھولے گی۔خواہ وہ اپنے زعم میں خود کو کتنا ہی قابل عزت اور قابل احترام بھی نہ سمجھتا ہو اس طرح تمہیں بھی یادر کھے گی۔لیکن خالد بن ولید کی طرح۔ابو عبیدہ کی طرح۔سعد بن ابی وقاص کی طرح تمہیں یاد نہیں رکھے گی۔اس سے بڑھ کر حضرت ابو بکر رضی اللہ عنہ کی طرح حضرت عمر رضی اللہ عنہ کی طرح حضرت عثمان رضی اللہ عنہ کی