خطباتِ ناصر (جلد3 ۔ 1970ء، 1971ء) — Page 256
خطبات ناصر جلد سوم ۲۵۶ خطبہ جمعہ ۳۱؍ جولائی ۱۹۷۰ء ضرورت ہوگی۔ٹیچر اور مبلغین کی بھی۔اور یہ تو یقینی بات ہے جس قسم کے اس وقت ہمارے پاس نہیں۔ان سے زیادہ مخلص فدائی اور جنونی آدمی ہمیں چاہئیں۔ہمارا نظام ”رٹ کے اندر جس کو کہتے ہیں رستہ بنایا ہوا ہے پہیہ نے ، اس میں پڑ گیا ہے۔حالانکہ ہمارا ماحول اور ہماری ضرورت اور ہمارے مخالف کا جو طریق جنگ ہے ہمیں اس رٹ سے پہیہ کو اس نشان سے باہر نکالنا ہے اور ہم نے دفاع نہیں کرنا کیونکہ دفاع کا وقت گزر گیا۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے خود تیس ہزار سے زیادہ اعتراض عیسائیوں کے اکٹھے کئے اور ان کا جواب دیا۔اب عیسائی جو ہے وہ اپنا دفاع کر رہا ہے اور ہم اس کے اوپر حملہ آور ہیں اور اس حملہ میں ہماری وہ فراست ہونی چاہیے جو دوسری جنگ میں حضرت خالد بن ولید رضی اللہ عنہ میدانِ جنگ میں دکھایا کرتے تھے۔اس قسم کی فدائیت چاہیے۔آدمی حیران ہو جاتا ہے کہ بعض دفعہ ایسی جھڑ پیں ہوئیں کہ مسلمان چار ہزار اور دشمن سولہ ہزار اور بہر حال ان کو زیادہ قربانی اس لحاظ سے بھی دینی پڑتی تھی کہ ان کی تو با ہیں شل ہو جاتی تھیں۔وہ ( دشمن ) چار ہزار پیچھے ہٹا لیتے تھے اور تازہ دم چار ہزار لڑنے کے لئے آگے بھیج دیتے تھے۔تو چاروں ٹکڑیوں کے ساتھ ایک ٹکڑی کولڑنا پڑتا تھا کیونکہ وہ ان سے چار گنے زیادہ تھے اس کے باوجود تاریخ لکھتی ہے که قریباً ساری رات وہ قرآن کریم کی تلاوت اور نوافل میں وہ گزارتے تھے اور صبح کے وقت میدانِ جنگ میں چلے جاتے تھے تو ان کی قوت اور طاقت کا منبع اور سر چشمہ نیند اور آرام یا کھانا نہیں تھا بلکہ اللہ تعالیٰ کے فضلوں کو جذب کرنے کی کوشش تھی۔اس طرف ہمارے بہت سے مبلغ توجہ دے رہے ہیں لیکن ایسے بھی ہیں جو توجہ نہیں دے رہے اگر تم نے اپنے جسم اور روح کی طاقت اللہ تعالیٰ سے حاصل نہ کی تو تمام ادیان کے مقابلہ میں جو جنگ تم لڑ رہے ہو۔اس کی طاقت تم کیسے پاؤ گے تم لڑہی نہیں سکتے تمہارے جسم ، تمہارے ذہن، تمہارے حافظے اور تمہاری ذہنی اور روحانی قوتیں جو ہیں وہ اتنی کمزور ہوں گی (اس منبع سے کٹ کر ) کہ تم غالب نہیں آسکتے اپنے مخالف پر تم ناکارہ سپاہی تو کہلا سکتے ہو۔نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی اس فوج کا جو آج ساری دنیا سے برسر پیکار ہے۔روحانی اور علمی لحاظ سے لیکن تمہیں کارآمد وجود اس فوج کا نہیں کہہ سکتے۔