خطباتِ ناصر (جلد3 ۔ 1970ء، 1971ء)

by Hazrat Mirza Nasir Ahmad

Page 248 of 586

خطباتِ ناصر (جلد3 ۔ 1970ء، 1971ء) — Page 248

خطبات ناصر جلد سوم ۲۴۸ خطبہ جمعہ ۳۱؍ جولائی ۱۹۷۰ء بڑی وضاحت سے یہ بیان ہوا ہے تو بات سنتے ہیں اور ہمیں سنانی چاہیے تو جس وقت مذا ہب کی گشتی ہو اس وقت غالب آنے والے مذہب کے پاس اس قدر ز بر دست دلائل ہونے چاہئیں کہ ان دلائل کے سامنے دوسرے مذاہب ٹھہر نہ سکیں۔یہ زبر دست دلائل کو حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کا کام تھا لانا اور آپ لے آئے۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے دنیا کے تمام بڑے بڑے مذاہب اور سب سے بڑا بد مذہب یعنی دھریت جو ہے اس کے خلاف بڑے بڑے دلائل دے دیئے ہیں لیکن محض دلائل دینا بھی غالب آنے کے لئے کافی نہیں ہوا کرتے۔دنیا کی تاریخ سے ہمیں پتہ لگتا ہے اس کی تفصیل میں ہمیں جانے کی ضرورت نہیں اس لئے آپ نے فرمایا کہ دوسری چیز جو وحدت اقوامی کے لئے ضروری تھی ایسی فضا تھی جس میں مذاہب کی گشتی امن کی فضا میں ممکن ہو اور جو دلیل اور حجت میں زبر دست اور طاقتور ہو اس کی جیت ہو اور وہ دلائل تھے جو حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے دیئے اور تیسری چیز جو اس وحدت اقوامی کے لئے ضروری تھی وہ یہ تھی کہ جس طرح نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم صحابہ کے اس گروہ کو آسمانی نشانات اور تائیدات سے نوازا گیا جو آپ کی زندگی میں اور آپ کے بعد دو تین نسلوں میں پیدا ہوں اس طرح ایک قوم صحابہ سے ملتی جلتی پیدا کی جائے جو حضرت نبی اکرم صلی اللہ علیہ وعلی آلہ وسلم کے آسمانی نشانات اور تائیدات کی وارث بنے۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کا وجود تو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے وجود میں اس طرح فانی ہے کہ علیحدہ کوئی چیز ہمیں نظر نہیں آتی اس وجود کی جھلک اس وجود کا حسن اس وجود کا احسان جو ہے وہ ہمیں حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے وجود میں نظر آتا ہے اور ان میں کوئی فرق نہیں اور اللہ تعالیٰ نے بھی یہی کہا کہ دیکھنا ! فرق نہ کرنا ورنہ پاؤں پھسل جائے گا۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے نہ صرف خود بڑی کثرت سے بے حد و حساب آسمانی نشانات دنیا کو دکھائے بلکہ آپ نے دنیا میں یہ اعلان بھی کیا کہ میرے سچے اور کامل متبعین بھی آسمانی نشانوں کے وراث بنیں گے۔یہاں تک فرمایا کہ میرے کامل متبعین کو اللہ تعالیٰ اس قدر برکت دے گا کہ اگر وہ کسی چیز کو چھوئیں گے تو وہ چیز بابرکت ہو جائے گی قبولیت دعا کا نشان ہے۔یہ ساری ہماری جماعت جو مخلصین کا حصہ ہے ( منافقین اور کمزوروں کو نکال کر ) ان