خطباتِ ناصر (جلد3 ۔ 1970ء، 1971ء) — Page 14
خطبات ناصر جلد سوم ۱۴ خطبہ جمعہ ۹/ جنوری ۱۹۷۰ء طرف کما حقہ، متوجہ رہتے تو ان کا بچہ چور نہ بنتا اسی طرح اگر بعض خاندانوں کے بچوں کو گندی گالیاں دینے کی عادت ہے تو صرف ان بچوں پر گرفت نہیں کی جائے گی بلکہ ان کے ماں باپ اور دوسرے ذمہ دار رشتہ داروں پر بھی گرفت کی جائے گی جن پر یہ فرض تھا کہ اپنے قول فعل اور نمونہ کے ساتھ اُن کی صحیح تربیت کرتے اگر اہل ربوہ میں سے ایک آدھ ایسا نوجوان ہو جو نظام سلسلہ کا وہ احترام نہیں کرتا جو ہر احمدی کو کرنا چاہیے ( اور احمدیوں کی بہت بھاری اکثریت یہ احترام کرتی ہے ) تو اس صورت میں اگر اصلاح کی خاطر ربوہ سے باہر بھجوانے کا فیصلہ ہوا تو صرف بچہ کو ہی نہیں بلکہ اس کے ماں باپ اور دوسرے رشتہ داروں کو بھی ربوہ سے باہر جانا ہوگا۔دو تین سال ہوئے دو ایک نوجوانوں کو ان کی اصلاح کی غرض سے ربوہ سے باہر بھجوایا گیا تو وہ باہر یہ شور مچاتے رہے کہ ہمیں خواہ مخواہ ربوہ سے نکال دیا گیا ہے اور ان کے ماں باپ یہاں شور مچاتے رہے کہ ہمارے بچوں کو خواہ مخواہ ربوہ سے باہر نکال دیا گیا ہے پس ہم ایسے کمزور ایمان والوں اور بزدلوں سے دو جگہ کیوں شور مچوائیں وہ ایک ہی جگہ شور مچائیں بہتر تو یہ ہے کہ وہ یہاں رہیں اور اخلاص سے رہیں اور اگر یہاں سے جانا ہو تو سارا خاندان یہاں سے جائے صرف بچوں کو ہی باہر کیوں بھیجا جائے۔میں تو سمجھتا ہوں کہ یہ بچے حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے بچے ہیں جو ماں باپ ان کی صحیح تربیت نہیں کرتے وہ بڑے ہی ظالم ہیں۔ظاہری آنکھ ان کے ظلم کو نہیں دیکھتی وہ صرف بچہ کی حرکت کو دیکھتی ہے وہ ایک بچہ کو کوئی چیز اٹھاتے دیکھتی ہے وہ اسے آوارہ پھرتے دیکھتی ہے یا کان کسی بچہ کی زبان سے گندی گالیاں سُن رہے ہیں لیکن ایک مومن کی فراست اور خدائے عَلامُ الْغُيُوبِ کا علم ان ماں باپ اور دوسرے رشتہ داروں کے اندر بھی ظلم اور گند دیکھ رہا ہے جن پر اس کی تربیت میں حصہ لینا فرض تھا اور جن پر اللہ تعالیٰ کی غصہ کی نگاہ ہو جنہیں اللہ تعالیٰ گندہ اور ظالم پائے ان کو ہم عاجز بندے اصلاحی تدبیر کے بغیر کیسے چھوڑ سکتے ہیں۔خدا تعالیٰ سے زیادہ تو کوئی بندہ کسی پر رحم نہیں کر سکتا ایک ہی ہستی ہے جس کے متعلق یہ کہا جا سکتا ہے کہ اس کی رحمت اس کے غضب سے زیادہ ہے اس کی رحمت نے مخلوق میں سے ہر شئے کا احاطہ کیا ہوا ہے اسے گھیرے میں