خطباتِ ناصر (جلد3 ۔ 1970ء، 1971ء)

by Hazrat Mirza Nasir Ahmad

Page 247 of 586

خطباتِ ناصر (جلد3 ۔ 1970ء، 1971ء) — Page 247

خطبات ناصر جلد سوم ۲۴۷ خطبہ جمعہ ۳۱ جولائی ۱۹۷۰ء کہ means of communication مینز آف کمنی کیشن ) جسے کہتے ہیں رسل و رسائل ( اور آپس کے تعلقات کو قائم کرنے کے لئے جن چیزوں کی ضرورت ہے۔وہ اس حد تک ترقی یافتہ ہو جائیں کہ قوم قوم کے درمیان فاصلہ، مکان کا فاصلہ اور زمان کا فاصلہ جو ہے وہ بہت کم ہو جائے۔ایسا ہی کم ہو جائے جیسا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانہ میں مدینہ سے مکہ تک پہنچنا یا اس سے بھی کم عرصہ میں دنیا کے بہترین حصہ میں انسان پہنچ سکتا ہے۔تو ایک اس کے بغیر وحدت اقوامی کا قیام ممکن نہیں کہ تمام بنی نوع انسان ایک برادری بن جائیں اور ان کا باپ اس دنیا میں محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ہو۔بقیہ دو باتوں کا تعلق حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام سے ہے آپ فرماتے ہیں کہ ایک تو ایسا زمانہ چاہیے۔ایک تو یہ ہو کہ رسل و رسائل means of communication (مینز آف کمنی کیشن ) اتنے ہوں کہ تمام دنیا ایک ملک کی طرح بن جائے۔دوسرے یہ کہ وہ حالات ایسے ہوں اور طبائع میں جوش اس قدر ہو کہ تمام مذاہب اپنے اپنے مذہب کی صداقت کے فیصلہ کے لئے تیار ہوں۔حالات بھی ایسے ہوں کہ ان کا آپس میں مقابلہ ہو سکے مذاہب کی گشتی کا امکان پیدا ہو جائے جو اس زمانہ میں ہو گیا۔ایک تو یہ کہ مذہبی آزادی سوائے ایک تنگ ذہن کے ہر جگہ ہمیں نظر آتی ہے۔مذہب کی بناء پر آج تلوار نہیں نکالی جارہی نہ کسی کو قتل و غارت کے میدان میں دھکیلا جارہا ہے۔الا ماشاء اللہ۔ساری دنیا جو ہے وہ باتوں کو سنتی ہے ہمارے ملک میں تعصب ہے مگر ایک چھوٹے سے حصہ میں ہزار میں سے ایک شخص ہوگا جو اس تعصب کی بیماری میں مبتلا ہوگا۔ہمارے پاکستان والے بھی تحمل سے بات سنتے ہیں اس زمانہ میں ہم ہی بعض دفعہ ستی دکھاتے ہیں انہیں بات نہیں سناتے ، وہ سننے کے لئے تیار ہیں اور کسی پر زبردستی نہیں میرے سامنے جب بھی بعض دفعہ جوش میں آکر احمدی کہہ دیتے ہیں کہ انہوں نے بہت کچھ پڑھا ہے لیکن یہ صاحب جو ہیں وہ سامنے بیٹھے ہوئے ہیں احمدیت کو قبول کرنے کے لئے تیار نہیں تو میں نے انہیں کبھی یہ نہیں کہا کہ تم فارم پر دستخط کرو اور تم بیعت کرلو۔میں نے انہیں نصیحت کی کہ دیکھو! یہ جو مرضی ہے کہتے رہیں جب تک انشراح صدر نہ ہو تم احمدیت میں داخل نہ ہونا کیونکہ گفتی سے تو کوئی فائدہ نہیں نہ گنتی میں کوئی دلچسپی ہے جیسا کہ ان آیات میں بھی جو میں نے تلاوت کی ہیں