خطباتِ ناصر (جلد3 ۔ 1970ء، 1971ء) — Page 13
خطبات ناصر جلد سوم ۱۳ خطبہ جمعہ ۹ جنوری ۱۹۷۰ء کہ ہم اس کو برداشت کر لیں گے۔جو آیت میں نے ابھی پڑھی ہے اس میں اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ بعض عذاب اور ابتلاء اور مصائب اور آفتیں دنیا پر ایسی بھی نازل کی جاتی ہیں کہ ان کی لپیٹ میں صرف ظالم ہی نہیں آتا بلکہ وہ لوگ بھی آجاتے ہیں جن کا بظاہر اس ظلم میں کوئی حصہ نہیں یعنی صرف ظالم کو وہ آفت یا بلاء یا عذاب نہیں پہنچتا بلکہ دوسرے بھی اس کی لپیٹ میں آ جاتے ہیں۔اصول تو ہمیں یہ بتایا گیا تھا کہ لَا تَزِرُ وَازِرَةٌ وِزْرَ أُخْرى (الانعام : ۱۶۵) کوئی جان دوسری جان کا بوجھ نہیں اُٹھائے گی لیکن چونکہ یہ دنیا دار الابتلاء ہے دارالجزاء نہیں۔اس آیت میں یہ بیان فرمایا کہ اس ابتلاء اور عذاب میں وہ لوگ بھی شامل ہو جائیں گے۔یہ ابتلاء اور عذاب ان لوگوں کو بھی پہنچے گا جو ظالم نہیں ہیں اور قرآن کریم کے متعلق یہ اصول یا د رکھنا چاہیے کہ اس کی آیات باہم تضاد نہیں رکھتیں۔لہذا ہمیں اس آیت کے ایسے معنی کرنے پڑیں گے جو کسی دوسری آیت سے ٹکراتے نہ ہوں ان کے متضاد نہ ہوں پس یہاں ایک معنی یہ ہوں گے کہ گو ظاہری طور پر وہ لوگ فلم میں شامل نہیں لیکن باطنی طور پر وہ ظلم میں شامل ہیں اور وہ اس طرح کہ بعض ذمہ داریاں افراد سے تعلق رکھتی ہیں۔وہ انفردی ذمہ داریاں ہوتی ہیں اور بعض ذمہ داریوں کے بہت سے پہلو یا وہ ساری کی ساری اجتماعی رنگ رکھتی ہیں اور جو اجتماعی ذمہ داریاں ہیں اگر وہ گروہ یا وہ خاندان جن کی وہ ذمہ داریاں ہیں بحیثیت مجموعی ان کی طرف متوجہ نہ ہوں اور اس کے نتیجہ میں اس گروہ یا خاندان کے بعض افراد ظالم بن جائیں تو سزا اور عذاب میں سارا خاندان ہی ملوث ہو جائے گا۔دنیا کی نگاہ تو یہ دیکھے گی کہ ایک پندرہ سالہ بچے نے چوری کی مگر اللہ تعالیٰ کی نگاہ یہ دیکھتی ہے کہ اس کے ماں اور باپ بہن اور بھائیوں اور خاندان کے دوسرے بڑے رشتہ داروں پر جو یہ فرض تھا کہ وہ اس پندرہ سالہ معصوم بچے کی صحیح تربیت کریں وہ تربیت انہوں نے نہیں کی جس کے نتیجہ میں وہ چور بن گیا۔پس دنیا کا قانون تو صرف اس بچے کو سزا دے گا مگر اللہ کا قانون اُس دنیا میں بھی اور اس دنیا میں بھی صرف اس بچے پر گرفت نہیں کرے گا جس نے چوری کی بلکہ ان پر بھی گرفت کرے گا جن پر اس کی صحیح تربیت کی ذمہ داری تھی لیکن انہوں نے اپنی یہ ذمہ داری ادا نہیں کی اگر وہ لوگ اس کی صحیح تربیت کی ذمہ داری کی -