خطباتِ ناصر (جلد3 ۔ 1970ء، 1971ء) — Page 226
خطبات ناصر جلد سوم ۲۲۶ خطبہ جمعہ ۱۰؍ جولائی ۱۹۷۰ء کی بازگشت ہیں جو میں سن رہا ہوں۔اس لئے میں خوش ہوں پس ایسا کبھی نہیں ہوگا اور نہ ہو سکتا ہے کہ وہ آواز خاموش کرا دی جائے لیکن جو فرداً فرداً اللہ تعالیٰ کے فضل نازل ہوتے ہیں وہ ہماریYoung Generation ( ینگ جزیشن ) یعنی نو جوانوں کو معلوم ہونے چاہئیں کہ اس میں کیا لذت اور کیا سرور اور کیا مزہ ہے! تا کہ وہ ساری دنیا سے بے پرواہ ہوکر اور بے خوف ہوکر قربانیوں اور ایثار کے میدان میں آگے آئیں اور وہ کام انجام پائے جو مشروط طور پر ہوتا ہے کہ تم قربانی دو گے تو انعام ملے گا ور نہ قرآن کہتا ہے کہ اللہ ایک اور قوم کو لائے گا جوان نعمتوں کی وارث بنے گی۔پس جو نعمتیں ایک عام اندازہ کے مطابق اس رنگ میں اور اس شان کے ساتھ آج سے ۲۰ سال بعد ہمیں ملنی ہیں وہ نو جوانوں کی جوانی کے جوش اور قربانی اور ایثار کے نتیجہ میں ۲۰ سال کی بجائے دس سال کے بعد مل جائیں۔اللہ تعالیٰ ہمیں سمجھ اور عقل اور ذمہ داری کا احساس دے اور دعا کی توفیق دے اور بے نفس اپنی جانوں کو اس کے حضور پیش کرنے کی طاقت دے اور جو چھوٹی سی قربانیاں تھوڑی تھوڑی سی ہم پیش کر رہے ہیں ان کو وہ قبول کرے اور اپنی بشارتوں کے مطابق ان کے نتائج نکالے۔ان قربانیوں کے نتائج ان قربانیوں کے حجم کے مطابق نہ ہوں بلکہ ان بشارتوں کے مطابق ہوں جو حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے ذریعہ خدائے قادر و توانا سے ہم نے پائی ہیں خدا کرے کہ ایسا ہی ہو میری طبیعت پر یہ اثر ہے۔لندن میں بھی میں نے کہا تھا اور یہ کہنے پر مجبور ہو گیا تھا، میں سوچتا ہوں تو میرے دل کی کیفیت یہ ہوتی ہے۔بع گو کہو دیوانہ میں کرتا ہوں اس کا انتظار غلبہ اسلام کے دن مجھے Horizon (افق) پر نظر آ رہے ہیں۔یہ سورج انشاء اللہ طلوع ہوگا اور نصف النہار پر پہنچے گا اور بہت جلدی پہنچے گا لیکن اس سورج کی تپش کے ذریعہ سے گناہ کی خنکی سے بچنے کے سامان اللہ تعالیٰ پیدا کرے تبھی ہمیں فائدہ ہے اور جو توانائی اس مادی دنیا کو سورج کی شعاعیں دے رہی ہیں۔روحانی سورج کی شعاعیں ہماری روحانی دنیا میں ہمیں ان فیوض کا اہل پائیں اور ہمیں وہ اتنی ملیں اتنی ملیں کہ ہم حقیقتا اور واقعہ میں صحابہ حضرت نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے