خطباتِ ناصر (جلد3 ۔ 1970ء، 1971ء) — Page 176
خطبات ناصر جلد سوم خطبہ جمعہ ۲۶ جون ۱۹۷۰ء مقابلے میں اگر کوئی محض ایم۔اے یا ایم۔ایس سی ہو اور ٹر یننگ حاصل نہ کی ہوا سے وہ اقوام ٹیچنگ لائن میں وقعت کی نگاہ سے نہیں دیکھتیں۔البتہ جس نے ایم۔اے، ایم۔ایس سی کے ساتھ ٹریننگ بھی کی ہو وہ تو اور بھی اچھی بات ہے۔یہاں پاکستان میں اللہ تعالیٰ کے فضل سے ہر سال سینکڑوں ہزاروں احمدی نو جوان بی۔اے، بی۔ایس سی اور ایم۔اے، ایم۔ایس سی کا امتحان پاس کرتے ہیں۔ان سینکڑوں ہزاروں میں سے اس وقت ہمیں ۷۰ ، ۸۰ نوجوانوں کی ضرورت ہے جو اللہ تعالیٰ کی راہ میں زندگی وقف کریں۔جو دوست وہاں جاتے ہیں وہ اکثر جگہ ہر جگہ تو نہیں کیونکہ جہاں نئے سکول کھولیں گے وہاں ہم اتنا گزارہ نہیں دیں گے) لیکن وہ سیرالیون میں مثلاً یہاں کے یونیورسٹی کے پروفیسروں جتنی تنخواہ بھی لے رہے ہیں اور اللہ تعالیٰ کا ثواب بہر حال اس پر زائد ہے لیکن وہ اللہ تعالیٰ کی اس رحمت کو قدر کی نگاہ سے دیکھتے ہیں۔ان ملکوں کا دورہ کرتے وقت میرا احساس یہ رہا ہے کہ ہمارے مبلغوں سے ہمارے ٹیچر ز کسی بھی لحاظ سے کم نہیں ہیں۔وہ بڑے پیار اور بڑی تندہی سے کام کرنے والے ہیں۔مجھے شرم سے یہ اظہار کرنا پڑتا ہے کہ ان لوگوں کا کام اپنی سنجیدگی اور متانت کے لحاظ سے، اپنی ذمہ داری کے احساس کے لحاظ سے اور جو وقت وہ خرچ کر رہے ہیں اس کے لحاظ سے اور جو اثر وہ اپنے طلبہ پر پیدا کر رہے ہیں اس کے لحاظ سے غرض بہت سی باتوں میں وہ تعلیم الاسلام کالج سے بھی زیادہ اچھے ہیں اور یہ شرم کی بات ہے ہمارے مرکز کے سارے تو نہیں لیکن بعض اساتذہ یہ سمجھتے ہیں کہ وہ گپیں ہانکنے کے لئے پیدا ہوئے ہیں اور اگر سٹاف روم میں بیٹھ کر گپیں ہانکتے رہیں تو گویا انہوں نے اپنا فریضہ ادا کر دیا۔انہیں بھی شرم آنی چاہیے ہمیں بھی شرم آ رہی ہے۔جو سات ہزار میل دور جاتا ہے جسے اللہ تعالیٰ نے دنیا بھی دی ( اس کا دماغ خراب ہوسکتا تھا جیسا کہ دنیا داروں کا ہو جاتا ہے لیکن اللہ تعالیٰ کے فرشتوں نے ان کے ذہنوں کوسنبھالا۔وہ بالکل بے نفس ہیں یعنی پیسہ ان کو مل رہا ہے لیکن آپ یہ محسوس نہیں کریں گے کہ انہیں زیادہ پیسہ مل رہا ہے وہ بڑی محنت و اخلاص سے وہاں کام کر رہے ہیں۔طلباء میں اتنا ڈسپلن ہے کہ آدمی حیران ہو جاتا ہے۔ہمارے تعلیم الاسلام کالج کے مقابلے میں وہاں کے طلباء میں زیادہ ڈسپلن