خطباتِ ناصر (جلد3 ۔ 1970ء، 1971ء) — Page 175
خطبات ناصر جلد سوم ۱۷۵ خطبہ جمعہ ۲۶ جون ۱۹۷۰ء مہلت دی گئی ہے۔بعض اور دوست بھی ایسے ہو سکتے ہیں جو اپنی مجبوریوں کی وجہ سے اس مہلت سے فائدہ اٹھا لیں لیکن جو دوست آج ادا کر سکتے ہیں انہیں کل کا انتظار نہیں کرنا چاہیے۔اسی سلسلہ میں ایک اور بات میں یہ کہنا چاہتا ہوں کہ اگر انگلستان کی جماعت اس مد میں فضل عمر فاؤنڈیشن سے دو اڑھائی گنا زیادہ رقم دے سکتی ہے تو میری غیرت اور آپ کی غیرت یہ نہیں پسند کرے گی کہ ہم لوگ انگلستان کی جماعت سے پیچھے رہ جائیں۔اس لئے اس مد میں پاکستان کا چندہ فضل عمر فاؤنڈیشن کے چندہ سے دو اڑھائی گنازیادہ ہونا چاہیے اگر دوست توجہ کریں اور اللہ تعالیٰ ہم پر فضل اور رحم فرمائے تو ہم یہ حقیری قربانی اس کے حضور پیش کر دیں گے اور اپنے رب سے یہ کہیں گے کہ اے ہمارے پیارے محبوب رب کریم ! ہم نے تیری رضا کے حصول کے لئے یہ حقیر سی قربانیاں دیں اور تو نے جو یہ اظہار کیا ہے کہ مومن کا ہر قدم پہلے سے آگے ہی پڑتا ہے اس کے مطابق ہم نے کوشش کی ، تو جو تمام خزانوں کا مالک ہے تو ان نہایت حقیر قربانیوں کو قبول کر اور ہمیں اپنی رضا کے عطر سے ممسوح کر۔تیسری بات جو میں کہنا چاہتا ہوں وہ یہ ہے کہ علاوہ مال کے ( جو ضرورت کے لحاظ سے بہت تھوڑا ہے لیکن بہر حال اللہ تعالیٰ ہمیں جتنی توفیق دیتا ہے ہم وہی اس کے حضور پیش کر سکتے ہیں ) ہمیں آدمیوں کی بھی ضرورت ہے اور اس کے متعلق میں آج یہاں غالباً پہلی دفعہ یہ اپیل کر رہا ہوں۔انگلستان میں جب میں نے تحریک کی تو وہاں کے بعض بڑے بڑے تعلیم یافتہ اور اونچی ڈگریاں لینے والے احمدی ڈاکٹروں نے افریقہ میں کام کرنے کے لئے رضا کارانہ طور پر اپنی خدمات پیش کر دیں۔بہر حال ہمیں کم سے کم ۳۰ ڈاکٹروں اور ۸۰۰۷۰ ٹیچر ز کی ضرورت ہے ہمارا ایم۔بی۔بی۔ایس ڈاکٹر بھی وہاں کام کر سکتا ہے ایسے ڈاکٹر وہاں اس وقت کام کر رہے ہیں اور اللہ تعالیٰ کے فضل سے بڑے کامیاب ہیں۔ٹیچنگ لائن میں ایک بی۔اے جس نے ٹریننگ حاصل کی اور جو بی۔ایڈ کہلاتا ہے اسے وہ لوگ زیادہ پسند کرتے ہیں اور ایک ایم۔ایس سی اور ایم۔اے کی نسبت اس کے لئے جلدی اور سہولت سے پرمٹ مل جاتا ہے۔غرض بی۔اے، بی۔ایس سی جس نے ٹرینگ بھی حاصل کی ہو اسے وہاں کی حکومتیں ترجیح دیتی ہیں۔اس کے