خطباتِ ناصر (جلد3 ۔ 1970ء، 1971ء) — Page 91
خطبات ناصر جلد سوم ۹۱ خطبہ جمعہ ۱/۳ پریل ۱۹۷۰ء نے تاکید اوصیت کی ہے۔ہم ہر ایک کے ساتھ خیر خواہی اور ہمدردی سے پیش آئیں۔اپنے نفس کو جس پر بعض دفعہ شیطان سوار ہو جاتا ہے اس گھوڑے کی طرح نہ چھوڑ دیں کہ جو شیطان بھی آئے اس پر سوار ہو جائے بلکہ یہ نفس ہمیشہ (اگر اس کی گھوڑے کی مثال ہو تو یہ ایک ایسا گھوڑا رہے جس پر اللہ تعالیٰ کی رضا ہمیشہ سوار ر ہے اور جس کی لگام ہمیشہ اللہ تعالیٰ کی محبت کے ہاتھ میں رہے ور نہ تو گر پڑنا اور ہلاک ہو جانا یقینی ہو جاتا ہے اللہ تعالیٰ فضل کرے۔پس محبت اور پیار سے اپنے دن گزاریں اور صدقہ اور دعاؤں کے ساتھ میری مدد کریں جو کام میرے سپرد ہے اور جس کی آخری ذمہ داری ان کمزور کندھوں پر رکھی گئی ہے وہ صرف میرا کام نہیں بلکہ ساری جماعت کا کام ہے خدا تعالیٰ کے حضور جواب دہی بڑی سخت ہے غرض خلافت کے قیام کے ساتھ جماعت کی ذمہ داریاں کم نہیں ہو جایا کرتیں بلکہ اور بھی بڑھ جاتی ہیں کیونکہ جب خلافت نہ رہی عوام کہہ سکتے تھے کہ اے ہمارے رب ! اگر ہمیں حضرت نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے خلفاء میں سے کوئی ہدایت کی طرف بلانے والا ہوتا اور اگر ہمیں پیار اور غصہ کے ساتھ ان حدود کے اندر رکھنے والا کوئی ہوتا جن حدود کو تو نے قائم کیا تو نہ ہم بھٹکتے اور نہ شیطان کی یلغار ہم پر کامیاب ہوتی لیکن جب خلافت قائم ہو اور اللہ تعالیٰ کے بے شمار فضل اور اس کی بے شمار رحمتیں جماعت پر نازل ہورہی ہوں ، راہیں روشن ہوں اور اندھیرے بھاگ رہے ہوں اس وقت نور سے نفرت اور ظلمت سے وہی پیار کرے گا جس کا دل شیطان کے قبضہ میں ہو پھر وہ اس گروہ میں سے نہیں ہو گا جن کے متعلق اللہ تعالیٰ نے کہا ہے کہ عِبَادِی اور جن کے متعلق اللہ تعالیٰ نے یہ کہا ہے کہ شیطان ان پر غالب نہیں آسکتا، پس اللہ تعالیٰ اپنے ایک سچے اور مخلص اور حقیقی بندے کو جس شکل اور روپ میں دیکھنا چاہتا ہے وہی شکل اور روپ اور اسی نور کی جھلک دعاؤں کے ساتھ اور تدبیروں کے ساتھ مجاہدہ کے ساتھ اور قربانیوں کے ساتھ اور عاجزانہ راہوں کو اختیار کر کے اپنے رب سے طلب کریں اور پائیں خدا کرے کہ ایسا ہی ہو۔پھر میں کہتا ہوں کہ صدقہ اور دعا سے میری مدد کریں اللہ تعالیٰ جس غرض کے لئے اس سفر کے سامان پیدا کر رہا ہے وہ غرض پوری ہو۔میں نے شاید پہلے بھی بتایا تھا میرا پچھلے سال جانے کا