خطباتِ ناصر (جلد3 ۔ 1970ء، 1971ء) — Page 71
خطبات ناصر جلد سوم ง 21 خطبه جمعه ۲۰ / مارچ ۱۹۷۰ء انسانوں کو بحیثیت انسان ایک مقام پر لا کھڑا کر دیا حضرت محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جیسا تو کوئی اور وجود نہ پہلوں میں پیدا ہوا اور نہ آئندہ پیدا ہوگا۔آپ کے منہ سے یہ کہلوایا کہ میں تمہارے جیسا انسان اور تم میرے جیسے انسان ہو۔اس سے انسان کی اتنی عزت اور احترام قائم ہو گیا کہ انسانی عقل حیران رہ جاتی ہے، سب انسانوں کو اس مقام پر کھڑا کر کے پھر آپ نے کہا دیکھو! میں تمہارے جیسا انسان ہوں ، میرے اندر بھی تمہارے جیسی قو تیں اور استعداد یں ہیں آؤ اب دیکھو میں اخلاقی دنیا میں ، میں روحانی دنیا میں کس طرح بلند یاں اور رفعتیں حاصل کرتا ہوں میں تو اپنے ظرف کے مطابق اونچا جاؤں گا تم بھی اپنے ظرف کے مطابق بلندیوں کو حاصل کر سکتے ہو۔اس لکیر پر جہاں سب برابر کر دیئے گئے ٹھہر نا نہیں بلکہ بلندیوں کی طرف پرواز کرنی ہے لیکن اس مقام پر اس سطح پر سب کو یہ کہہ کر اکٹھا کر دیا۔انما انا بَشَرٌ مِثْلُكُمُ (حم السجدة : - ) پس انسانیت پرسب سے بڑا جو احسان حضرت نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے کیا ہے وہ یہ ہے کہ انسان کی بحیثیت انسان عزت قائم کی اور اس کا احترام قائم کیا اور اس کا شرف اور مرتبہ قائم کیا۔دوسرا عظیم احسان جو انسان پر بحیثیت انسان ہمارے محبوب خاتم الانبیاء نے کیا وہ یہ تھا کہ انسان کے حقوق قائم کئے اور ایسے سامان پیدا کئے اور ایسی تعلیم دی کہ اگر ہم اس تعلیم پر چلیں تو سارے انسانوں کے حقوق انہیں مل جاتے ہیں ( اس تفصیل میں تو میں اس وقت نہیں جاؤں گا۔اقتصادی اصول پر میرے خطبات چھپ گئے ہیں ان میں میں وضاحت سے بیان کر چکا ہوں کہ ) حقوق انسانی کی جو تعریف قرآن عظیم نے کی ہے وہ انسانی عقل کر ہی نہیں سکتی وہ صرف ربانی الہام ہی کر سکتا ہے۔اس وقت وہ جو انسان کے سب سے بڑے ہمدرد بنتے ہیں وہ اشترا کی ہیں لیکن ان سے بھی جب پوچھا جائے کہ تم کہتے تو یہ ہو کہ اقتصادی میدان میں انسان کو اس کی ضرورتیں ملنی چاہئیں۔پھر تم نے ضرورتوں کی تعریف کیوں نہیں کی؟ اس کا نتیجہ یہ ہے کہ چین میں ضرورت سے کچھ اور مراد لی جاتی ہے اور یوگوسلاویہ میں ضرورت سے کچھ اور مراد لی جاتی ہے۔اور روسیوں کے نزدیک روس میں انسانی Needs ( نیڈز) ضروریات کچھ اور ہیں اور ان علاقوں میں جہاں