خطباتِ ناصر (جلد3 ۔ 1970ء، 1971ء)

by Hazrat Mirza Nasir Ahmad

Page 70 of 586

خطباتِ ناصر (جلد3 ۔ 1970ء، 1971ء) — Page 70

خطبات ناصر جلد سوم خطبه جمعه ۲۰ / مارچ ۱۹۷۰ء کے ساتھ جس حد تک ممکن تھا انہوں نے اپنی قوم کی تربیت کی اور ان کو نیک اور اپنے اپنے ظرف کے مطابق مطہر بنانے کی کوشش کی اس میں تو شک نہیں لیکن شرف انسانی کا قیام ان کے لئے ممکن نہیں تھا۔وہ تو مبعوث ہی ہوئے تھے ایک خاص زمانہ اور ایک خاص قوم کی طرف۔شرف انسانی کا قیام حضرت نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا انسانیت پر خاص احسان ہے اور صرف آپ سے تعلق رکھتا ہے۔معلوم دنیا اور غیر معلوم خطوں میں بسنے والے ہر فرد کی عزت اور شرف کو آپ نے قائم کیا۔دنیا میں اس وقت بعض ایسے خطے بھی تھے جن کے متعلق عرب میں بسنے والوں کو کوئی علم نہیں تھا۔مثلاً Red Indians ( ریڈ انڈین ) ہیں جو دنیا کے اس خطے میں جواب امریکہ کہلاتا ہے بستے تھے مگر بعثت نبی اکرم کے وقت آپ کے پہلے مخاطب عرب میں بسنے والوں کو ان کا علم نہ تھا۔حضرت نبی کریم ختم المرسلین صلی اللہ علیہ وسلم نے اس نا معلوم خطہ زمین میں بسنے والے انسان کی عزت اور احترام اور اس کا شرف بھی قائم کیا آپ نے یہ نہیں فرمایا کہ کسی ایسے انسان کے جذبات کو ٹھیس نہیں پہنچانی جو عرب میں بستا ہو یا حبشہ میں بستا ہو یا افریقہ میں بستا ہو بلکہ یہ فرمایا کہ انسان جہاں بھی بستا ہو تمہیں اس کا علم ہو یا نہ ہو اس کے جذبات کو ٹھیس نہیں لگانی۔جس وقت ہمارا تعلق ان قوموں سے قائم ہوا جن کا علم اس زمانہ کو نہیں تھا تو ہم ایک مسلمان احمدی کی حیثیت سے ( اور ہم سے پہلے بزرگ جو تھے وہ بھی ایک کامل متبع کی حیثیت سے اور ہم بھی حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے کامل متبع کی حیثیت سے ) ان کو جا کر یہ کہتے ہیں اور ایسا کہنے میں حق بجانب ہیں کہ تمہارا خیال کسی اور نے نہیں رکھا لیکن حضرت محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے تمہارا خیال رکھا اور باوجود اس کے کہ اس وقت دنیا تمہارے وجود کو بھی نہیں جانتی تھی تمہارے متعلق یہ حکم چھوڑ گئے کہ جب تم بحیثیت انسان ہمارے ساتھ ملاپ کر و تو تمہاری بھی وہی عزت اور احترام کیا جائے۔جو ہم آپس میں اپنے ملک کے رہنے والوں یا اپنے براعظم کے رہنے والوں سے کرتے ہیں۔وہی عزت اور احترام ہم تمہارا بھی قائم کریں گے۔میں نے پہلے بھی بتایا تھا کہ اِنَّمَا أَنَا بَشَرٌ مِثْلُكُمُ “ ( حم السجدۃ : ۷ ) کا ایک عظیم نعرہ تھا جو حضرت محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی زبان سے قرآن عظیم میں لگایا گیا۔جس نے تمام