خطباتِ ناصر (جلد3 ۔ 1970ء، 1971ء) — Page 69
خطبات ناصر جلد سوم ۶۹ خطبہ جمعہ ۲۰ / مارچ ۱۹۷۰ء ہوکر اور اس کے عاشق ہو کر وہ بھی خاتم الانبیاء زندہ باد کا نعرہ لگا لیتے ہیں لیکن ان کا نعرہ عارفانہ نعرہ نہیں ہے بلکہ مجو بانہ نعرہ ہے وہ اس مقام کو پہچانتے تو نہیں صرف ایک جھلک کے وہ گھائل ہو چکے ہیں اور ہم خوش ہیں کہ وہ پاک وجود جو ہمارے دل اور ہمارے دماغ اور ہماری روح اور ہمارے جسم پر حکومت کرتا ہے۔اس کے حق میں مجو بانہ نعرے بھی لگائے جاتے ہیں لیکن جب ختم نبوت زندہ باد کا نعرہ بلند ہو تو ایک احمدی کی روح کی گہرائیوں سے نکلنے والا عارفانہ نعرہ ہی سب سے زیادہ بلند ہونا چاہیے۔پس آج میں آپ کو اس طرف متوجہ کر رہا ہوں کہ ” خاتم الانبیاء زندہ باد “ بحیثیت ایک عارفانہ نعرہ کے ہمارا نعرہ ہے اور علم و عرفان نہ رکھنے والوں کے منہ سے نکلے تو وہ مجو بانہ نعرہ ہے البتہ یہ مجو بانہ نعرہ سن کر بھی ہمارے دل خوش ہوتے ہیں کہ ہمارے محبوب کے نور کی ایک جھلک کو تو انہوں نے دیکھ لیا خواہ ماضی کے دھندلکوں ہی میں کیوں نہ دیکھا ہو۔پس اگر کہیں یہ نعرہ بلند ہو تو آپ زیادہ شوق سے زیادہ پیار سے اس کے اندر شامل ہوا کریں۔دوسروں کی آواز اگر پہلے آسمان تک پہنچتی ہو تو آپ کی آواز ساتویں آسمان سے بھی بلند ہو کر خدائے عز وجل کے عرش تک پہنچے تا ہمارے آقا ہمارے محبوب حضرت محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم خوش ہوں کہ میرے کامل متبعین میرے عشق میں مستانہ وار یہ نعرہ لگا رہے ہیں۔خاتم الانبیاء زندہ باد دوسر ا نعرہ جو حضرت نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے طفیل ہم نے پایا ہے وہ بھی ہم نے ہی پایا ہے۔کوئی اور وہ نعرہ بھی عارفانہ نعرہ کے طور پر نہیں لگا سکتا۔حضرت نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم خاتم الانبیاء کی حیثیت سے دنیا کے محسن اعظم ہیں اور اس میں کوئی شک اور کلام نہیں۔میں اس کی وضاحت میں اختصار سے صرف چار باتوں کولوں گا۔اوّل۔آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے ذریعہ انسان پر جو احسانِ عظیم ہوا وہ شرف انسانی کا قیام ہے پہلے بزرگ انبیاء نے شرف انسانی کو قائم نہیں کیا انہوں نے اپنی قوم کی ضرورتیں پوری کیں۔ان کی تربیت کی طرف بڑی توجہ دی دعاؤں