خطباتِ ناصر (جلد3 ۔ 1970ء، 1971ء)

by Hazrat Mirza Nasir Ahmad

Page 67 of 586

خطباتِ ناصر (جلد3 ۔ 1970ء، 1971ء) — Page 67

خطبات ناصر جلد سوم ۶۷ خطبہ جمعہ ۲۰ / مارچ ۱۹۷۰ء انسان کو خدا تعالیٰ کا محبوب بنا دیتا ہے۔نقشِ قدم پر چلنے میں تین باتیں آتی ہیں۔اول یہ کہ آپ کے حسن کو جاننا جس کے نتیجہ میں محبت پیدا ہوتی ہے۔پس نقش قدم پر چلنے کے لئے ضروری ہے کہ آپ کے حسن کا علم حاصل کر کے بے اختیار ہو کر آپ کی محبت میں کھو جانا۔دوئم یہ کہ آپ کی عظمت کو پہچاننا۔قُلْ جَاءَ الْحَقُّ وَزَهَقَ الْبَاطِلُ ایک عظیم نعرہ تھا جو حضرت نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے حق میں آپ کے مظہر الوہیت ہونے کا لگایا گیا۔جو عظمت اور جلال ہمیں اللہ تعالیٰ میں ( جو کہ تمام صفات حسنہ سے متصف اور ہر عیب سے پاک ہے ) نظر آتا ہے۔وہ عظمت اور جلال ظلی طور پر ہمیں حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم میں نظر آتا ہے کیونکہ آپ اللہ تعالیٰ کی صفات کے مظہر اتم ہیں۔پس اللہ تعالیٰ کے ظلیت میں حضرت نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو جو عظمت اور جلال حاصل ہوا اس کی قدر کرنا اور اس کو پہچاننا آپ کے نقش قدم پر چلنے کے لئے ضروری ہے تا کہ ہر انسان اپنے ظرف کے مطابق روحانی ترقیات کرتا ہوا اپنے رب کا زیادہ سے زیادہ قرب حاصل کرے اور اس کی صفات کا زیادہ سے زیادہ مظہر بن سکے۔نقش قدم پر چلنے کے لئے تیسری ضروری بات یہ ہے کہ آپ کی کامل اطاعت کی جائے پس جو شخص اللہ تعالیٰ کی توفیق سے حضرت نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے محبت کرتا ہے اور آپ کی عظمت اور جلال اور آپ کے مقام کو پہچانتا ہے اور اس عشق کے نتیجہ میں اور اس عظمت کے رعب کے سایہ میں آپ کی کامل اطاعت کرتا ہے۔اللہ تعالیٰ اس کو اپنا محبوب بنالیتا ہے اور اسے ہر وہ چیز مل جاتی ہے جو ایک محبوب کو محبت کرنے والے پیارے سے ملا کرتی ہے چونکہ ہر چیز خدا تعالیٰ کی ہے اس لئے جو خدا تعالیٰ کا محبوب بن گیا اسے تو سب کچھل گیا۔فَالْحَمْدُ لِلَّهِ عَلَى ذَلِكَ پھر ہم جو حقیقت محمدیہ کا عرفان رکھتے ہیں ہم یہ جانتے ہیں کہ حضرت محمد مصطفیٰ خاتم الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم اس صفت میں کہ آپ انسانیت کے محسن اعظم ہیں یکتا اور بے نظیر ہیں۔آپ کی محسنانہ ہمدردی اور مشفقانہ غم خواری کا کسی ایک فرد یا ایک قبیلہ یا ایک خاندان سے تعلق نہیں بلکہ ساری دنیا سے اس کا تعلق ہے پھر کسی ایک زمانہ سے اس کا تعلق نہیں قیامت تک کے زمانوں سے