خطباتِ ناصر (جلد3 ۔ 1970ء، 1971ء)

by Hazrat Mirza Nasir Ahmad

Page 51 of 586

خطباتِ ناصر (جلد3 ۔ 1970ء، 1971ء) — Page 51

خطبات ناصر جلد سوم ۵۱ خطبہ جمعہ ۶ / مارچ ۱۹۷۰ء اس کو نباہتے ہیں اللہ تعالیٰ انہیں جزائے خیر عطا کرے۔۔جو پاکستان کے تعلیمی ادارے ہیں ربوہ سے باہر یار بوہ میں قائم ہیں ان کی ذمہ داری نظارت تعلیم پر ہے۔ربوہ سے باہر کے جو سکول ہیں یا تعلیمی ادارے ہیں میرے نزدیک ان کی عام نگرانی اس طرح پر نہیں ہو رہی جس طرح ہونی چاہیے ہم نے اگر سکول کھولنا ہو تو وہ ہمارے معیار کے مطابق ہونا چاہیے ورنہ وہ ہماری بدنامی کا موجب ہے۔دنیا کے معیار کے مطابق نہیں۔ہمارے سکول ہمارے معیار کے مطابق ہونے چاہئیں ہمارا ہر کام ہمارے ( یعنی اسلام اور احمدیت ) کے معیار کے مطابق ہونا چاہیے یہ بھی ہمارا ایک کام ہے ان ہزاروں کا موں میں سے جن کے کرنے کی ہم اپنے رب سے تو فیق پاتے ہیں لیکن ربوہ سے باہر بہت سے تعلیمی ادارے ایسے ہیں جو ہمارے معیار کے مطابق نہیں ہیں اور یہ قابل شرم بھی ہے اور قابل فکر بھی ہے جو ہمارا سکول ہے وہ ہمارے معیار کے مطابق ہونا چاہیے اور اس میں اور غیر میں نمایاں فرق ہونا چاہیے۔اللہ تعالیٰ کا ہم سے وعدہ ہے کہ اگر ہم اسلام کی روح کو سمجھتے ہوئے اس کے مطابق اپنی زندگی گزاریں گے تو وہ ہم میں اور غیروں میں ایک فرقان اور ایک امتیاز کو قائم کرے گا۔یہ امتیاز ( ایک فدائی، عبدرحمن اور ایک ایسے شخص کے درمیان جس کے اندر ایثار اور فدائیت کا جذبہ اور اسلام کی روح نہیں ) یہ فرق جو ہے یہ قد کے لحاظ سے یا رنگ کے لحاظ سے یا ناک نقشے کے لحاظ سے نہیں یہ تو اس نور کے لحاظ سے ہے جو ایک باعمل حقیقی اور سچا مسلمان حاصل کرتا ہے اور جو دوسرے کو نہیں ملتا۔وہ نور مَا بِهِ الْاِمتیاز بنتا ہے اللہ تعالیٰ سے تعلق ، ایک انہماک ، ایک فدائیت کہ جو کام بھی ہم نے کرنا ہے چھوٹا ہو یا بڑا وہ اللہ تعالیٰ کو راضی کرنے کے لئے کرنا ہے۔یہ نہیں کہ ہم نماز تو پڑھیں گے اللہ تعالیٰ کو راضی کرنے کے لئے اور روٹی کھائیں گے کسی اور کو راضی کرنے کے لئے اگر کسی اور کو راضی کرنا ہو تو کمانے پر جتنی اسلامی پابندیاں ہیں پھر تو انسان انہیں چھوڑ دے کیونکہ اسی کے نتیجہ میں روٹی ملتی ہے۔ایک احمدی مسلمان نے نماز بھی اللہ تعالیٰ کی رضا کے حصول کے لئے قائم کرنی ہے اور ایک احمدی مسلمان نے اپنے یا اپنی بیوی کے منہ میں لقمہ بھی اللہ تعالیٰ کی رضا کے حصول کے لئے ڈالنا ہے