خطباتِ ناصر (جلد3 ۔ 1970ء، 1971ء) — Page 557
خطبات ناصر جلد سوم ۵۵۷ خطبہ جمعہ ۱۷؍ دسمبر ۱۹۷۱ء پورا کرنے والا ہے اور یہ عزم کہ ہم اپنا سب کچھ اسلام کی شوکت اور اپنے بھائیوں کی مدد کے لئے قربان کر دیں گے وہ تو اپنی جگہ پر ہے۔ویسے ہمارے دل اس لئے دُکھیا نہیں کہ ایک محاذ کے اوپر ہمیں کچھ پریشانی اٹھانی پڑی ہے۔ہمارے دل اس لئے دُکھیا ہیں اور اس وقت بڑا ہی دُکھ محسوس کر رہے ہیں کہ مشرقی پاکستان میں رہنے والے قریباً کروڑ مسلمانوں کو مصیبت پڑ گئی ہے اس لئے ہمارا دل دُکھتا ہے اور اگر ہمارا دل واقعہ میں دُکھتا ہے تو ہمیں ان کی خاطر اور بھی زیادہ قربانی دینی چاہیے۔آپ اس بات کا اندازہ نہیں لگا سکتے کہ وہ کس خطر ناک مصیبت میں مبتلا ہو گئے ہیں۔آج صبح بی بی سی کی ایک چھوٹی سی خبر یہ ہے کہ مشرقی پاکستان میں دشمنوں نے قتل عام شروع کر دیا ہے۔وہ غلط فہمیوں میں مبتلا بنگالی مسلمان جو یہ سمجھتا تھا کہ اسے آزاد نہ حکومت کرنے کے لئے موقع دیا جائے وہ ہندو کی تلوار کے نیچے آ گیا ہے۔۱۹۴۷ء میں تو ہم نے چند لاکھ کی قربانی دی تھی اب کہیں چند ملین (MILLION) کی یعنی ستر اسی لاکھ یا ایک کروڑ کی قربانی نہ دینی پڑے۔پس وہاں اس قسم کے حالات ہیں اس لئے ہمارا دل دکھ محسوس کر رہا ہے اور ہمارا ذہن پریشان ہے اور اس پریشانی کو دور کرنا سوائے اللہ تعالیٰ کے کسی اور کی طاقت نہیں ہے اور خدا تعالیٰ کے حضور عاجزانہ دعاؤں کے سوا اس کے فضلوں کو جذب کرنے کا کوئی راستہ نہیں۔پس ہم خدا تعالی کی نازل ہونے والی ہر خیر کو پسند کرتے اور مانگتے ہیں لیکن خدا تعالیٰ نے ہمیں کہا ہے کہ كُلُّ بَرَكَةٍ مِّنْ مُحَمَّدٍ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - اس لئے ان دنوں میں دوست خصوصی طور پر بہت زیادہ درود بھیجیں اور اللہ تعالیٰ کا ذکر کریں۔پہلے تو میں نے سینکڑوں میں کہا تھا کہ سُبْحَانَ اللَّهِ وَبِحَمْدِهِ سُبْحَانَ اللَّهِ الْعَظِيم اللَّهُمَّ صَلِّ عَلَى مُحَمَّدٍ وَآلِ مُحَمَّدٍ پڑھا کریں۔اب عدد کی حدود سے پھلانگ کر آگے نکل جائیں اور ہر وقت یہ تسبیح وتحمید اور درود پڑھیں تا کہ محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی برکت اور اللہ تعالیٰ کی کامل قدرت کے نتیجہ میں ہمیں وہ مل جائے جس کے لینے کے ہم خواہش مند ہیں۔روزنامه الفضل ربوه ۲۳ / دسمبر ۱۹۷۱ء صفحه ۱ تا ۳) 谢谢谢