خطباتِ ناصر (جلد3 ۔ 1970ء، 1971ء)

by Hazrat Mirza Nasir Ahmad

Page 545 of 586

خطباتِ ناصر (جلد3 ۔ 1970ء، 1971ء) — Page 545

خطبات ناصر جلد سوم ۵۴۵ خطبہ جمعہ ۳/ دسمبر ۱۹۷۱ء کہیں۔جب کسی کے اوپر حملہ ہو تو دشمن یہ نہیں کہہ سکتا کہ میں نے تو تمہاری دائیں کلائی پکڑ کر اس کو توڑ دینے کی کوشش کی ہے تم اپنے بائیں ہاتھ سے مکا کیوں ماررہے ہو۔تمہارے بائیں ہاتھ کو تو میں نے کچھ نہیں کہا یا میں نے تمہاری لات کی ہڈی توڑنے کے لئے ضرب لگائی ہے تم اپنے دونوں ہاتھوں سے میرا گلا کیوں پکڑ رہے ہو یا میں نے تمہارے سر پر مارا ہے۔تمہاری لاتوں نے اپنا زاویہ بدل کر اپنی حفاظت کا سامان کیوں کیا ہے۔اس سے زیادہ احمقانہ باتیں آج ہمارا دشمن کر رہا ہے اور کر اس لئے رہا ہے کہ وہ سمجھتا ہے کہ مادی سامان اس کے پاس زیادہ ہیں۔جن میں تعداد بھی ہے اور شاید وہ یہ بھی سمجھ رہا ہے کہ غیر مادی سامان بھی ان کے ساتھ ہے یعنی ایسی طاقت جو ظاہر میں ان کے ساتھ نہیں لیکن اندر سے ان کے ساتھ ہے ان کی شہ پر وہ کہ رہے ہیں کہ بس آج موقع ہے پاکستان کو ختم کر دو۔مسلمان کو خدا تعالیٰ کا ارشاد ہے کہ جب ایسے حالات پیدا ہو جائیں تو وہ خدا جس نے اپنی طاقتوں کے جلوے احزاب کی جنگ کی اُس آخری رات میں دکھائے تھے جس نے کافروں کو وہاں سے سر پر پاؤں رکھ کر بھاگنے پر مجبور کیا تھا۔اُس قادر و توانا کی طاقت میں آج بھی کوئی کمی نہیں آئی۔اگر تم اس کی رحمت اور فضل کو پا نہ سکے تو یہ تمہاری کمزوری ہو گی۔تمہارے ایمان کی کمزوری ہو گی تم اس کے شکر گزار بندے نہیں بنے ہو گے۔تم نے اس کی صفات کی معرفت نہیں حاصل کی ہو گی۔تمہارا ایمان پختہ نہیں ہو گا۔تمہیں یہ یقین نہیں ہو گا کہ خدا تعالیٰ نے اُمت مسلمہ سے جو وعدے کئے ہیں وہ پورا کرے گا لیکن اگر تمہارے دل میں یہ پختہ یقین ہو کہ خدا تعالیٰ اپنے وعدوں کو پورا کرے گا اور وہ پورا کرنے پر قادر ہے اور جو بشارتیں اس نے دی ہیں، ان بشارتوں کے ہم بھی وارث ہیں اور اگر تم اللہ تعالیٰ کی صفات کی معرفت رکھتے ہو گے اگر تم اس پر تو گل رکھو گے اگر تم شرک نہیں کرو گے۔اس کے علاوہ کسی اور کی طرف تمہاری نگاہ نہیں جائے گی۔تو آج بھی وہ قادر و توا نا خدا اپنی قدرتوں کے وہی جلوے دکھائے گا جو اس نے احزاب کی اس فیصلہ کن رات میں دکھائے تھے جس نے مسلمانوں کے لئے خوشیوں کے سامان اور کافروں کے لئے ہلاکت کے سامان پیدا کر دئے تھے۔