خطباتِ ناصر (جلد3 ۔ 1970ء، 1971ء)

by Hazrat Mirza Nasir Ahmad

Page 43 of 586

خطباتِ ناصر (جلد3 ۔ 1970ء، 1971ء) — Page 43

خطبات ناصر جلد سوم ۴۳ خطبہ جمعہ ۶ رفروری ۱۹۷۰ء جو قرآن کریم نے بیان کیا ہے۔حضرت نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم پر ایمان لانا اس معنے میں ضروری ہے اور اس مقام ارفع پر ایمان لانا ضروری ہے جو مقام کہ حضرت نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا اللہ تعالیٰ نے قرآن کریم میں ہمیں بتایا ہے۔خود قرآن عظیم پر وہ ایمان لانا ضروری ہے جو خود قرآن کہتا ہے کہ مجھ پر اس طرح ایمان لاؤ محض یہ کہ دینا کہ ہم قرآن کریم پر تو ایمان لاتے ہیں لیکن اپنے اقتصادی مسائل کے حل کے لئے ہم امریکہ جائیں گے تو یہ قرآن کریم پر ایمان کوئی نہیں کیونکہ اگر قرآن کریم پر وہ ایمان ہو جو قرآن کریم کہتا ہے مجھ پر رکھو، جو اللہ تعالیٰ کہتا ہے کہ قرآن کریم پر رکھ تو پھر یہ سوال ہی نہیں پیدا ہوتا اور وہی حقیقی ایمان ہے۔قرآن کریم کے متعلق اللہ تعالیٰ نے خود قرآن کریم میں یہ دعوی کیا کہ یہ ایک کامل اور مکمل کتاب ہے۔اگر ہماری زندگی کا کوئی ایسا مسئلہ ہو کہ جس کو سلجھانے کے لئے ہمیں قرآن کریم کی بجائے امریکہ یا روس کے پاس جانا پڑے تو ہمیں یہ اعلان کرنا پڑتا ہے یوں زبان سے نہیں کہیں گے لیکن عملاً ہم یہ اعلان کر رہے ہوں گے کہ (نعوذ باللہ ) قرآن کریم کامل نہیں ، ناقص ہے اور اس نقص کو دور کرنے کے لئے قرآن عظیم کو چھوڑ کر ہمیں امریکہ جانا پڑا یا روس جانا پڑا۔پس قرآنِ عظیم پر محض زبانی ایمان کافی نہیں اس رنگ میں اور اس طور پر ایمان لا ناضروری ہے جو خود قرآن عظیم نے کہا ہے کہ اس طرح مجھ پر ایمان لاؤ یہی حال ایمان بالآیات اور ایمان بالغیب کا ہے پس جہاں جہاں بھی ایمان پالی“ کا سوال ہے یعنی اللہ تعالیٰ نے فرمایا ہے کہ فلاں پر ایمان ا لا و وہ ہمیں خود قرآن کریم سے تلاش کرنا پڑے گا کہ کس معنے میں یہ کہا گیا ہے کہ ایمان لاؤ۔آج میں مختصر ہی خطبہ کرنا چاہتا ہوں اسی تمہید پر ختم کروں گا میرا ارداہ ہے کہ ایمان کی جو تفاصیل ہیں کہ اللہ پر ایمان لاؤ، رُسل پر ایمان لاؤ ، غیب پر ایمان لاؤ اور پھر ان پر جو وحی ہوتی ہے اس پر ایمان لاؤ ، حضرت نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم پر ایمان لاؤ، قرآنِ عظیم پر ایمان لاؤ، انہیں واضح کروں۔لفظ ”ایمان“ جب عام ہو بغیر صلے کے وہ یہ تقاضا کرتا ہے کہ قرآنِ کریم سے نکال کر دیکھا جائے کہ ان سارے ایمانوں کے کیا معنے ہیں تا کہ ہمارے ایمان میں تازگی اور ہماری روح میں بشاشت پیدا ہو۔