خطباتِ ناصر (جلد3 ۔ 1970ء، 1971ء) — Page 516
خطبات ناصر جلد سوم ۵۱۶ خطبہ جمعہ ۱۹ نومبر ۱۹۷۱ء کیا جائے گا۔اسلامی شریعت پر ایمان لانے کے نتیجہ میں جو آدمی ایمان کے تقاضوں کو پورا کرتا ہے، نہ اس کو نقصان کا کوئی خطرہ ہوتا ہے اور نہ ظلم کا کوئی خطرہ ہوتا ہے بلکہ ایک نیک عمل کے بدلے میں دس، ایک کے بدلے میں شاید دوسو، ایک کے بدلے میں شاید دو ہزار، ایک کے بدلے میں شاید دو کروڑ یا دو ارب گنا زیادہ بلکہ شاید ان گنت جزا ملے گی کیونکہ اگر جزا ان گنت نہ ہوگی تو جنتیں ہمیشہ کے لئے کیسے بن جائیں گی۔تو فر ما یالا يَخَافُ بَخْصًا جو شخص محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی شریعت پر ایمان لایا اور قرآن کریم نے جس رنگ میں اللہ تعالیٰ کو پیش کیا ہے اس رنگ میں اس کی ہستی پر اور اس کی صفات پر ایمان لایا اور جس نے محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے مقام کو پہچانا اور جس نے محبت اور عشق میں ایک نئی زندگی حاصل کر کے خلوص نیت کے ساتھ خدا کی راہ میں کچھ کیا اور اگر بشری کمزوریوں کے نتیجہ میں وہ عمل ناقص تھا تب بھی ناقص جزا نہیں ہے۔اس کے مقابلے میں بھی اتنی بڑی جزا ہے کہ وہ ہمارے ذہن میں سما نہیں سکتی۔پھر فرمایا وَلا رَهَقًا اس کو رَهَق کا بھی خوف نہیں ہو گا۔( میں نے آج منجد دیکھی تھی۔اس میں ) رَهَق کے چار معنے بتائے گئے ہیں اور وہ چاروں معنے تفسیری لحاظ سے یہاں لگتے ہیں۔رهَق کے ایک معنے الاثم یعنی گناہ کے ہیں۔اگر شریعت کامل نہ ہو۔وہ بعض حصوں کو لے اور بعض حصوں کو نہ لے جس کا مطلب یہ ہے کہ بعض حصوں کے متعلق ہدایت دے اور بعض حصوں کو انسان پر چھوڑ دے تب بھی گناہ کا خطرہ رہتا ہے کہ جو اس نے فیصلہ کیا ہے وہ درست نہیں ہے۔مگر یہاں فرمایا کہ شریعت محمدیہ پر ایمان لانے والے کو ( اگر وہ اس پر کار بند ہوتا ہے ) اتھ کا کوئی خطرہ نہیں رہتا اس لئے کہ یہ شریعت کامل اور مکمل ہے۔اس لئے کہ یہ شریعت خیر محض ہے۔قرآن کریم کے ایک لفظ ”خَیر “ میں شریعت محمدیہ کی حقیقت بیان کی گئی ہے۔قرآن کریم میں آتا ہے:۔مَاذَا انْزَلَ رَبُّكُمْ قَالُوا خَيْرًا (النحل : ٣١) شریعت محمد یہ بھلائی ہی بھلائی ہے اس واسطے اثم کا سوال ہی پیدا نہیں ہوتا پھر انسان کی