خطباتِ ناصر (جلد3 ۔ 1970ء، 1971ء) — Page 509
خطبات ناصر جلد سوم خطبہ جمعہ ۱۹ نومبر ۱۹۷۱ء سورہ جن کی ایک آیت کی نہایت لطیف اور پر معارف تفسیر خطبہ جمعہ فرموده ۱۹ / نومبر ۱۹۷۱ء بمقام مسجد مبارک۔ربوہ تشہد وتعوذ اور سورۃ فاتحہ کی تلاوت کے بعد حضور انور نے یہ آیہ کریمہ تلاوت فرمائی:۔و انا لما سَمِعْنَا الْهُدَى أَمَنَا بِهِ فَمَنْ يُؤْمِنُ بِرَبِّهِ فَلَا يَخَافُ بَخْسًا وَلَا رَهَقًا - (الجن : ۱۴) اس کے بعد فرمایا:۔سورہ جن کی اس آیت میں اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ (جس گروہ کے لوگوں کا وہاں ذکر ہے انہوں نے واپس جا کر اپنے ساتھیوں سے یہ کہا کہ ) ہم نے ایک کامل ہدایت اور شریعت کوسنا اور ہم اُس پر ایمان لے آئے ہیں۔ایمان کا لفظ عربی زبان میں مختلف معانی میں استعمال ہوتا ہے۔اس حصہ آیت میں ایمان کے لفظ کا تعلق صرف زبان کے اقرار سے ہے۔مفردات راغب میں ہے کہ الْإِيْمَانُ يُسْتَعْمَلُ تَارَةً إِسْمًا لِلشَّرِيعَةِ الَّتِي جَاءَ بِهَا مُحَمَّدٌ عَلَيْهِ الصَّلوةُ وَالسَّلَامُ۔۔۔وَيُوْصَفُ بِهِ كُلٌّ مَنْ دَخَلَ فِي شَرِيعَتِهِ مُقِرًّا بِاللَّهِ وَبِنُبُوَتِهِ یعنی ایمان کا لفظ کبھی عربی زبان میں اقرار باللسان کے معنوں میں بھی آتا ہے بلکہ 66