خطباتِ ناصر (جلد3 ۔ 1970ء، 1971ء) — Page 490
خطبات ناصر جلد سوم ۴۹۰ خطبہ جمعہ ۲۲/اکتوبر ۱۹۷۱ء ایک دعا تو یہ ہے مگر یہ تکلف کی دعا ہے یہ ابتدا ہے لیکن ایک وہ دعا ہے کہ جس میں آدمی بے تاب ہو کر خدا تعالیٰ کے قدموں پر گر جاتا ہے اور کہتا ہے مجھے یہ عطا فرما۔وہ تو الہی صفات کی معرفت کے بعد ہی ہو سکتی ہے۔یعنی وہ اسی وقت ہو سکتی ہے جب انسان کو یہ پتہ لگے کہ اللہ تعالیٰ ماں باپ سے زیادہ قریب ہے جہاں تک موسم کی حفاظت کا تعلق ہے اپنے گھر سے زیادہ قریب ہے۔جہاں تک بعض دوسری ضرورتوں کا اور زینت کا سوال ہے۔ہمارے لباس سے زیادہ قریب ہے۔جہاں تک دورانِ خون (جس پر زندگی کا انحصار ہے ) کا تعلق ہے وہ شہ رگ سے زیادہ قریب ہے۔ہر پہلو اور ہر جہت سے، ہر غیر کی نسبت وہ ہم سے زیادہ قریب ہے۔کیونکہ ائی قریب “ کا یہ مطلب نہیں کہ بعض جہات سے اللہ تعالیٰ قریب ہو اور بعض جہات سے دور بلکہ جولوگ اس کی معرفت رکھتے ہیں اور اس کی صفات کو پہچانتے ہیں وہ علی وجہ البصیرت یہ کہہ سکتے اور اسے ثابت کر سکتے ہیں کہ ہر جہت اور ہر پہلو سے ہر غیر کی نسبت اللہ تعالیٰ ہم سے زیادہ نزدیک ہے پس فرمایا کہ صفات کا پتہ لگے تو تم دعا کی طرف مائل ہو جاؤ گے۔پھر فرمایا۔أجِيبُ دَعْوَةَ الدَّاعِ إِذَا دَعَانِ “ " جو مجھے پہچانتا ہے اس کی دعا اجابت کا درجہ پاتی ہے۔فرماتا ہے اُجیب یعنی مجھے اس نے قریب دیکھا تو میں اس کی دعا کو قبول کرتا ہوں لیکن ساتھ یہ بھی فرمایا کہ ہر شخص کی دعا قبول نہ ہو گی۔وہی معرفت جس کے متعلق شروع میں اشارے کئے گئے تھے۔وہ اس آیت کے آخر میں بھی ہے فرما یا فَلْيَسْتَجِيبُوا۔میرے حکم کی تعمیل کرو۔نہ اپنی طرف سے عبادت میں شدت پیدا کرو اور نہ میری فرض کردہ عبادت سے بچنے کے لئے بہانے ڈھونڈ و۔جو رعایت میں دیتا ہوں شکر کرو اور اسے قبول کرو۔جو حکم میں دیتا ہوں شکر کرو اور اسے قبول کرو۔جس عبادت کے کرنے کو میں کہتا ہوں وہ بھی کرو اور جس کے نہ کرنے کا کہتا ہوں وہ بھی نہ کرو۔فرمایا۔فَلْيَسْتَجِيبُوا۔جب تم میرے حکم کے مطابق اپنی زندگی گزارو گے اور شریعت کی پابندی کرو گے تو تمہاری جسمانی اور روحانی نشو و نما اپنے کمال کو پہنچ جائے گی اور اس کا نتیجہ یہ ہوگا کہ تم ہدایت بھی پا جاؤ گے اور تمہارا