خطباتِ ناصر (جلد3 ۔ 1970ء، 1971ء) — Page 466
خطبات ناصر جلد سوم ۴۶۶ خطبہ جمعہ ۸/جنوری ۱۹۷۱ء حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کو یہ بشارت بھی دی اور آپ سے یہ وعدہ بھی کیا تھا کہ میں تجھے مخلصین کی ایک جماعت دوں گا، جو ساری دنیا میں اسلام کو غالب کرنے کی اس مہم کو کامیابی سے چلائے گی۔یہ تو انشاء اللہ ہو کر رہے گا لیکن کبھی دوسرے لوگ اعتراض کر دیتے ہیں کبھی ہمارے دلوں میں ایک وہم سا پیدا ہو جاتا ہے کیوں آپ وہم پیدا کر کے مجھے پریشان کرتے ہیں ! تھوڑی سی رقم ہے شستی دور کریں اور رقم ادا کریں تا کہ ہم اپنے کام کریں اور آگے بڑھیں۔انشاء اللہ۔خدا تعالیٰ آپ کو اتنا مال دے رہا ہے کہ آپ اس کا شکر ادا نہیں کر سکتے اور پھر وہ آپ کو مالی قربانی کی توفیق بھی دے رہا ہے اور آپ سے اس کا یہ وعدہ ہے کہ وہ آپ کو اجر عظیم دے گا اور وہ اپنا وعدہ پورا بھی کر رہا ہے۔اس آیت میں اللہ تعالیٰ نے یہی فرمایا ہے کہ اولا د اور اموال تو امتحان ہیں۔دنیا کے امتحان کے نتیجہ میں تو ذرا ذرا سا انعام ملتا ہے مثلاً ایک آدمی ایم۔اے پاس کر لیتا ہے لیکن یہ چھوٹا سا انعام ہے کیونکہ بہت سارے لوگ ایسے بھی ہوتے ہیں جن کو انعام صرف اتنا ملتا ہے کہ ایم اے کی ڈگری مل جاتی ہے لیکن حکومت ان کے لئے نوکری کا سامان نہیں کرتی۔وہ چھوٹا سا انعام یعنی ڈگری لے کر پھر بھی پریشان پھر رہے ہوتے ہیں۔خدا تعالی کا اپنے بندوں سے تو یہ سلوک نہیں ہوتا وہ تو صرف پاس ہی نہیں کرتا ، وہ صرف رحیم ہی نہیں ہے، صرف استحقاق ہی پیدا نہیں کرتا بلکہ وہ مُلِكِ يَوْمِ الدِّينِ بھی ہے۔ہر چیز اس کے ہاتھ میں ہے۔وہ جب استحقاق پیدا کرتا ہے تو ساتھ یہ بھی کہتا ہے، یہ لو اور دنیا حیران ہے اور ہم اپنے پیارے رب کے پیارے جلوؤں کو دیکھ کر خوشی سے اپنی زندگی کے دن گزار رہے ہوتے ہیں۔اللہ تعالیٰ نے اس آیت میں فرمایا ہے کہ میں تمہیں دنیا کی طرح اجر نہیں دوں گا بلکہ میرا اجر تو اجر عظیم ہے۔( عظیم عربی لغت کے لحاظ سے اس عظمت کو کہتے ہیں جس سے بڑھ کر کوئی عظمت نہ ہو) چنانچہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا ہے کہ جو اجر میں نے دینا ہے، اس سے بڑھ کرا جر تمہیں کہیں اور نہیں مل سکتا پس یہ عظیم اجر ہے جس کا اللہ تعالیٰ نے وعدہ فرمایا ہے اور یہ عظیم اجر ہے جسے ہم عملاً اللہ تعالیٰ سے وصول کر رہے ہیں اور جس پر ہم خوش ہیں۔