خطباتِ ناصر (جلد3 ۔ 1970ء، 1971ء)

by Hazrat Mirza Nasir Ahmad

Page 458 of 586

خطباتِ ناصر (جلد3 ۔ 1970ء، 1971ء) — Page 458

خطبات ناصر جلد سوم ۴۵۸ خطبہ جمعہ یکم جنوری ۱۹۷۱ء نہ رکھنا اور سب کچھ اور سب خیر و برکت اپنے ربّ کریم سے حاصل کرنے کی کوشش کرنا ہے۔اسلام کے عظیم دور کے ساتھ ہی حسد کا دور، عناد کا دور، مخالفت کا دورا اور ظلم کا دور شروع ہوا تھا۔قرآن کریم نے ابتداء ہی سے ہمیں تعلیم دی تھی کہ حاسد کے حسد کے شر سے بچنے کے لئے تم اپنے رب کی طرف رجوع کرنا اور اپنی حفاظت اسی سے چاہنا۔انعام جب بے شمار ہوں، انعام جب معمول سے زیادہ ہوں، پیار جب ٹھاٹھیں مارتا ہوا سمندر بن جائے تو حسد اور مخالفت اور عناد میں بھی شدت پیدا ہو جاتی ہے لیکن مظلوم ہونے کے با وجود اور حسد کا نشانہ بننے اور ظلم کا ہدف ہونے کے باوجود ہم پر یہ فرض عائد کیا گیا ہے اور ہمیں یہ حکم دیا گیا ہے کہ کسی کو دُکھ نہیں پہنچانا، کسی کی جان پر حملہ نہیں کرنا کسی کا مال غصب نہیں کرنا کسی کو بے عزت نہیں کرنا اور کسی پر حقارت کی نگاہ نہیں ڈالنا بلکہ جب انسان اللہ کی گود میں اس کے فضل سے بیٹھ جائے تو اس کے دست قدرت نے جو پیدا کیا اس سے وہ محبت کرنے لگتا ہے، اس سے پیار کرنے لگتا ہے، اس کا بہی خواہ بن جاتا ہے اور اس سے ہمدردی و غمخواری کرتا ہے۔دنیا اپنی ناسمجھی کی وجہ سے ہمارے ساتھ جو بھی سلوک کرے، ہمیں غصہ نہیں آنا چاہیے۔ہمیں بدلہ لینے کی طرف توجہ نہیں کرنی چاہیے بلکہ ایسوں کے لئے بھی دعائیں کرتے رہنا چاہیے۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے ہمیں تاکیدی حکم فرمایا ہے کہ ہر احمدی کا فرض ہے کہ وہ ہر اس شخص کے لئے دعائیں کرتا رہے جو اس احمدی کے لئے دشمنی کے جذبات رکھتا ہے۔اگر وہ ایسا نہیں کرتا تو حقیقی مسلمان کی ایک صفت سے محروم ہو جاتا اور اللہ تعالیٰ کی ناراضگی کا ایک دروازہ اپنے پر کھول لیتا ہے۔اللہ تعالیٰ رحم کرے اور محبت و اخوت اور ہمدردی و غمخواری کے جس مقام پر اللہ تعالیٰ نے جماعت کو بٹھایا ہے، اس مقام پر ہی وہ ہمیں قائم رکھے اور اسی پر استقامت بخشے تا کہ اس کے فضلوں کے ہم زیادہ سے زیادہ وارث بنتے چلے جائیں۔خدا کرے کہ ایسا ہی ہو۔روزنامه الفضل ربوه ۱۶ جنوری ۱۹۷۱ء صفحه ۲، ۳)