خطباتِ ناصر (جلد3 ۔ 1970ء، 1971ء)

by Hazrat Mirza Nasir Ahmad

Page 440 of 586

خطباتِ ناصر (جلد3 ۔ 1970ء، 1971ء) — Page 440

خطبات ناصر جلد سوم ۴۴۰ خطبہ جمعہ ۱۸؍ دسمبر ۱۹۷۰ء کوئی ایسا انتظام ہونا چاہیے جس سے یہ احمدی بچوں کا اغوا کر سکیں۔اس واسطے جلسہ سالانہ کے موقع پر بہت محتاط رہنا چاہیے اور بچوں کی حفاظت خاص طور پر کرنی چاہیے گو ہمیشہ ہی یہ اعلان ہوتارہتا ہے لیکن اس دفعہ خاص طور پر حفاظت کرنی چاہیے کیونکہ جو سیاسی منصوبے بنائے گئے تھے وہ اللہ تعالیٰ نے ناکام کر دیئے ہیں اور جو دوسرے منصوبے اگر کوئی بنائے (خدا نہ کرے کہ وہ اتنے گر جائیں) تو ہمیں دعا کرنی چاہیے کہ اللہ تعالیٰ انہیں بھی نا کام کر دے۔اسی طرح مثلاً ایک یہ خبر پہنچی گوا سے افواہ ہی کہنا چاہیے کیونکہ ہم کوئی عدالت تو نہیں ہیں کہ گواہیاں لے کر ثابت کریں لیکن اچھے معتبر ذرائع سے یہ خبر پہنچی کہ ایک منصو بہ جماعت کے خلاف جلسہ کے دنوں میں یہ بنایا گیا ہے کہ جو پیشل گاڑیاں آتی ہیں ان میں اپنے ایماندار لوگوں کو بغیر ٹکٹ کے چڑھا دو اور پھر اطلاع دے کر لیٹ کرواؤ اس طرح جماعت کو بدنام کرو کہ بغیر ٹکٹ کے سفر کرتے ہیں۔ان منصوبوں میں سے مثلاً ایک اطلاع یہ بھی پہنچی کہ چنیوٹ اور سلانوالی کے درمیان ریل کے اوپر اور بسوں پر پہلے سے طے شدہ انتظام کے مطابق بڑے ”نیک مسلمانوں سے ڈاکے ڈلواؤ اور مشہور یہ کرو کہ دیکھا احمدیوں کے جلسے میں بڑے ڈاکو آتے ہیں جنہوں نے آتے ہی کام شروع کر دیا۔پتہ نہیں اور کیا کیا سوچا اور کیا کیا منصوبہ بنایا۔بہر حال ہمیں ہر قسم کی احتیاط کرنی چاہیے جیسا کہ میں نے شروع میں اشارہ کیا تھا مادی آنکھ جس مادی سہارے کو تلاش کرتی ہے وہ تو ہمارے پاس نہیں۔ہمارے پاس جو سہارا ہے وہ اللہ ہے اور اس کی قدرتیں اور اس کی حسین صفات ہیں اور پھر ہمارا سہارا یہ حقیقت ہے کہ جو جماعت یا فرد اس سے پیار کرنے والا اور اس سے محبت ذاتیہ رکھنے والا ہے اللہ تعالیٰ بھی جواب میں اپنے عاجز بندے سے کئی گناہ زیادہ محبت اور پیار کرتا ہے اور اس کو اپنی حفاظت میں لے لیتا ہے، اس کے لئے امان بن جاتا ہے، اس کے لئے ڈھال بن جاتا ہے اور اس کے خلاف جو منصوبے کئے جاتے ہیں ان کو پاش پاش کر دیتا ہے۔