خطباتِ ناصر (جلد3 ۔ 1970ء، 1971ء) — Page 439
خطبات ناصر جلد سوم ۴۳۹ خطبہ جمعہ ۱۸؍ دسمبر ۱۹۷۰ء دوسری خصوصی دعا جس کی طرف آج میں توجہ دلانا چاہتا ہوں وہ جلسہ سالانہ کے متعلق ہے۔جلسہ سالانہ تو ایک معجزہ ہے جو ہر سال اللہ تعالیٰ ہمیں دکھاتا ہے بلکہ یوں کہنا چاہیے کہ معجزات کا ایک نہایت حسین گلدستہ ہے جس میں قسم قسم اور رنگا رنگ کے پھول اکٹھے کئے ہوئے ہیں۔اناسی ۷۹ جلسے ہو چکے ہیں۔اتنے بڑے اجتماع میں کبھی اللہ کے فضل سے و بانہیں پھیلی چاروں طرف سے دوست آرہے ہوتے ہیں اور بے احتیاطی سے وبائی امراض کے علاقوں سے بھی آجاتے ہیں لیکن دیکھنے والوں کو نظر آجاتا ہے کہ یہاں اللہ کے فرشتوں کا پہرہ ہے پھر اتنا بڑا کھانے کا انتظام اتنی سہولت اور اتنے آرام سے ہو جاتا ہے اور کھانے والوں اور کھلانے والوں کے باہمی تعاون اور دعاؤں کے نتیجہ میں ہر دو جو اللہ تعالیٰ کا فضل جذب کرتے ہیں اس کی وجہ سے باہر سے آنے والے حیران ہو جاتے ہیں۔آٹھ دس سال ہوئے ایک انگریز عورت انگلستان سے آئی تھیں وہ کہنے لگیں کہ میں واپس جا کے جب اپنے خاندان کو یہ انتظام بتاؤں گی کہ وہاں یہ ہوتا ہے اور پچاس ساٹھ ہزار مہمانوں کے کھانے کا جماعت انتظام کرتی ہے تو میرے رشتہ دار اور دوست سمجھیں گے کہ میں وہاں گرم ملک میں گئی تھی اور میرا دماغ خراب ہو گیا اور پاگلوں والی باتیں شروع کر دیں حقیقت یہ ہے کہ دور بیٹھے نہیں سمجھا جا سکتا بلکہ یہ دیکھنے کے ساتھ ہی تعلق رکھتا ہے۔یہ درست ہے کہ اتنا بڑا انتظام ہوتا ہے اور کامیاب ہوتا ہے ہر دوطرف سے تعاون ہوتا ہے اور کسی کو کوئی تکلیف نہیں ہوتی اور نہ تکلیف کا احساس ہی ہوتا ہے بعض استثناء پیدا ہو جاتے ہیں جو دور ہو جاتے ہیں اور پھر بشاشت پیدا ہو جاتی ہے۔انہیں استثنائی تشویش کے نقطے کہنا چاہیے اور اتنے بڑے مجمع میں کہیں ایک، دو، چار نقطے ہمیں نظر آ ہی جاتے ہیں پھر کوئی جھگڑا نہیں، کوئی تلخی نہیں محبت اور پیار کی فضا ہے اور ان دنوں میں دوست فرشتوں کو آسمان سے نازل ہوتے ہوئے دیکھتے ہیں لیکن جو نا سمجھ ہے اس کو غصہ آتا ہے اور غصہ کی حالت میں اللہ تعالیٰ کی طرف نہیں دیکھتا بلکہ اپنی تدبیر کی طرف متوجہ ہو جاتا ہے، اور تدبیر وہ سوچتا ہے جو انسان کو زیبا نہیں مثلاً ہمیں رپورٹیں ملتی رہیں کہ اپنے آپ کو بڑے متقی مسلمان سمجھنے والوں کے نزدیک