خطباتِ ناصر (جلد3 ۔ 1970ء، 1971ء) — Page 422
خطبات ناصر جلد سوم ۴۲۲ خطبہ جمعہ ۱۱/ دسمبر ۱۹۷۰ء سمجھا کہ ہم تو مارے گئے ہم بڑی طاقت رکھتے ہیں اور اپنی اس طاقت کے بل بوتے پر اپنے آپ کو دوسروں کی نسبت زیادہ ارفع اور اعلیٰ سمجھتے ہیں۔ہمارے دماغ میں برتری کے خیالات رچے ہوئے ہیں اگر ہم سب برا بر ہو گئے تو ہم تو مارے گئے۔بھلا یہ کیسے ہوسکتا ہے کہ حبشی بلال اور ابو جہل برابر ہو گئے؟ یہ تو نہیں ہو سکتا چنانچہ محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف سے مساواتِ انسانی کی اس عظیم آواز کے اٹھانے پر دنیا مخالف ہوگئی۔جب آپ نے عزت انسانی کی آواز اٹھائی ( جو دراصل مساوات ہی کا ایک پہلو ہے ) اور فرمایا سب لوگوں کی عزت کرنی پڑے گی۔خدا تعالیٰ کی نگاہ میں کوئی آدمی حقیر نہیں ہے ورنہ خدا تعالیٰ پر یہ اعتراض آتا ہے کہ اس نے حقیر انسان بھی پیدا کیا ہے حالانکہ اسلام کہتا ہے کہ جس کو خدا نے پیدا کیا ہے وہ خدا کی نگاہ میں حقیر نہیں ہوسکتا اور جو خدا کی نگاہ میں حقیر نہیں ہو سکتا وہ خدا کے بندوں کی نگاہ میں بھی حقیر نہیں ہونا چاہیے چنانچہ جب آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے عزت انسانی کی یہ آواز اٹھائی تو مخالفین نے کہا یہ کیسے ہوسکتا ہے؟ تم ہمیں اس اس بات سے روکتے اور منع کرتے ہو کہ ہم دوسرے لوگوں کو حقارت اور نفرت کی نگاہ سے نہ دیکھیں یہ نہیں ہوسکتا۔ہم طاقت رکھتے ہیں اور تمہیں کچل کر رکھ دیں گے اور پھر آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم اور آپ کے متبعین کے خلاف منصوبے بنانے شروع کر دیئے۔آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے اللہ تعالیٰ کے منشاء کے مطابق جب یہ فرمایا کہ ہر فرد کی برابری اور اس کی عزت کے قیام کے بعد جہاں تک ممکن ہو ( یہ میں اس لئے کہتا ہوں کہ بعض دفعہ ابتلاء بھی آیا کرتے ہیں) انسانی قوتوں اور استعدادوں کو نشوونما کے کمال تک پہنچنا چاہیے تو مخالفین اسلام نے کہا کہ یہ بات تو ہمارے اموال لوٹنے کے مترادف ہے۔وہ سمجھتے تھے کہ انہیں جو مال و دولت ملی ہے یہ اللہ کی عطا کردہ نہیں بلکہ اسے انہوں نے اپنی محنت ، کوشش اور عقل کے استعمال کے علاوہ دوسروں کی مدد سے اکٹھا کیا ہے۔ہمیں یہ کہا جاتا ہے کہ اس میں سے خدا کے بندوں پر خرچ کرو۔یہ تو نہیں ہوسکتا۔پس مساوات کی یہ آواز عزت انسانی کی یہ آواز در اصل حقوق انسانی کے قیام کا ایک عظیم اعلان تھا۔اللہ تعالیٰ نے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم اور آپ کے متبعین کو اس کا ذمہ دار ٹھہرایا ہے۔