خطباتِ ناصر (جلد3 ۔ 1970ء، 1971ء) — Page 418
خطبات ناصر جلد سوم ۴۱۸ خطبہ جمعہ ۱۱/ دسمبر ۱۹۷۰ء کے خلاف سازشیں کریں گے۔داؤ پیچ سے کام لیں گے۔ان سے ہم انہیں نہیں روکیں گے۔ویسے اللہ تعالیٰ کو تو یہ بھی طاقت ہے کہ کسی کو منصوبہ ہی نہ کرنے دے لیکن اگر اللہ تعالیٰ اپنی اس قدرت کو ظاہر کرے تو پیار کے وہ جلوے جو اللہ تعالیٰ اپنے بندوں کو دکھانا چاہتا ہے یعنی اس کی حفاظت کے جلوے، اس کی قدرتوں کے جلوے، اس کے حسن و احسان کے جلوے دنیا کس طرح دیکھے؟ مخالفین تو دیکھ لیں گے لیکن دنیا کو نظر نہیں آئیں گے۔اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ مخالفین اسلام جو بھی مکر اور سازش کرنی چاہیں وہ کریں میں انہیں اس سے نہیں روکوں گا بلکہ اس میں انہیں مہلت بھی دوں گا لیکن جب ان کی سازشیں زور پکڑیں گی تو میں ابھی کچھ عرصہ اپنی قدرت نہیں دکھاؤں گا اور اپنے کمزور بندوں سے کہوں گا کہ تم صبر اور دعا سے کام لو چنا نچہ خدا کے بندوں کے خلاف جب بھی منصوبے کئے گئے وہ صبر سے کام لے رہے ہوں گے وہ گالیاں سن کر دعا دے رہے ہوں گے۔انہیں زہر دیا جائے گا اور وہ میٹھا شر بت پلا رہے ہوں گے۔ان کے لئے قحط کے سامان پیدا کئے جارہے ہوں گے اور جب وقت آئے گا تو یہ قحط دور کرنے کے سامان پیدا کریں گے۔مسلمانوں کو اغوا کیا جائے گا اور اسلام اغوا کے سارے راستوں کو بند کر رہا ہو گا۔مسلمان مخالفین کے ہر مکر کا جواب صبر اور تقویٰ کی راہوں پر چل کر اور دعا کے ساتھ دے رہے ہوں گے۔مگر اندھی دنیا یہ سمجھے گی کہ اس بے کس قوم کا کوئی سہارا نہیں ہے لیکن بینا آنکھ اور وہ جس کی آنکھ ہمیشہ ہی کھلی رہتی ہے اور جو علام الغیوب ہے وہ کہے گا کہ تم صبر کرو۔وقت آنے پر تم دیکھ لو گے میں کیا کرتا ہوں۔فرماتا ہے۔اِنَّهُم يَكِيدُونَ كَيْدًا وَ آكِيْدُ كَيْدًا یعنی میں اپنی منشاء اور مرضی کے مطابق اپنی تدبیر کروں گا جو اپنے وقت پر ظاہر ہوگی۔غرض اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ ایک عرصہ ایسا آئے گا کہ میرے ماننے والے یعنی محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اور آپ کے فدائی دنیا کی نگاہ میں بے سہارا ہوں گے لیکن میں ان کا سہارا ہوں گا اور میں ان سے کہوں گا کہ میں تمہارا سہارا ہوں۔اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اور آپ کے متبعین کے خلاف یہ منصوبے اس لئے کئے جائیں گے کہ وہ خدا کے بندوں کو توحید خالص کی طرف بلا رہے ہوں گے اور انہیں ان کے انسانی حقوق دلوار ہے ہوں گے اور اِنَّما أنا بشر مثلكم (الكهف : ۱۱۱) کا عظیم نعرہ بلند