خطباتِ ناصر (جلد3 ۔ 1970ء، 1971ء)

by Hazrat Mirza Nasir Ahmad

Page 416 of 586

خطباتِ ناصر (جلد3 ۔ 1970ء، 1971ء) — Page 416

خطبات ناصر جلد سوم ۴۱۶ خطبہ جمعہ ۱۱/ دسمبر ۱۹۷۰ء اللہ تعالیٰ کا حق تو یہ ہے کہ انسان توحید خالص پر قائم ہو وہ اللہ تعالیٰ کو اس معنی میں اور اس رنگ میں واحد ودیگا نہ تسلیم کرے اور یقین جانے جس رنگ میں کہ اللہ تعالیٰ کی صفات اور اس کی ذات کی وحدانیت قرآنِ عظیم میں بیان ہوئی ہے اور اس رنگ کو جو اس کی صفات اور ذات میں ہمیں نظر آتا ہے اپنے اوپر چڑھا کر اس کے بندوں کے حقوق کو جنہیں خود اللہ تعالیٰ نے قائم کیا ہے۔قائم کرے اور ادا کرے۔خدائے واحد و یگانہ کی ذات اور صفات کی معرفت حاصل کرنا ضروری ہے۔اللہ تعالیٰ ایک ہے اور اپنی مخلوق کے لئے اکیلا ہی کافی ہے مگر دنیا اس حقیقت کو سمجھتی نہیں ہے اور الیس الله بِكَافٍ عَبْدَة (الزمر : ۳۷) کی بجائے وہ یہ اعلان کرنے لگ جاتی ہے کہ يُخَوَفُونَكَ بِالَّذِيْنَ مِنْ دُونِهِ (الزمر:۳۷)۔یعنی اللہ کے سوا دوسری ہستیوں کا خوف دل میں پیدا کرتی ہے اور تنبیہ کرتی ہے کہ فلاں عقاب سے ڈرو اور فلاں عقاب سے ڈرو مثلاً کفار مکہ نے یہی اعلان کیا کہ ہمارے عقاب سے ڈرو۔پھر کفار مکہ کے ساتھ یہود بھی مل گئے۔مکہ سے باہر کے عرب قبائل بھی ساتھ مل گئے انہوں نے بھی کہا کہ یہ کیا نیا دین آگیا ہے؟ ہم اسے ملیا میٹ کر دیں گے مگر کفارِ مکہ ہوں یا اس وقت کے یہودی اور نصرانی ہوں یا عرب کے دوسرے بت پرست قبائل ہوں وہ سب کے سب اس حقیقت سے ناواقف تھے کہ اللہ تعالیٰ اپنے بندہ کے لئے کافی ہے۔چنانچہ اللہ تعالیٰ کے بندوں کی اپنے مخالفین کے مقابلہ میں یہی آواز ہوتی تھی اليْسَ اللهُ بِكَافٍ عَبْدَ کی کیا اللہ تعالیٰ کا فی نہیں ہے؟ کیا اللہ تعالیٰ کو چھوڑ کر یا اللہ کے علاوہ کسی اور کی احتیاج پیدا ہوسکتی ہے؟ نہیں لیکن مخالفین چونکہ اللہ تعالیٰ کی قدرتوں اور اس کی صفات کی معرفت نہیں رکھتے تھے اس لئے وہ مسلمانوں کو ڈراتے تھے کہ تم تعداد میں تھوڑے ہو مگر وہ یہ نہیں جانتے تھے کہ اللہ تعالیٰ تو جب مٹی کے ایک ذرہ کو اپنی انگلی میں پکڑ کر آسمان کی بلندیوں کی طرف لے جانا چاہتا ہے تو وہ لے جاتا ہے اور دنیا کے سارے انسان مل کر بھی اللہ تعالیٰ کے اس منشاء میں روک نہیں بن سکتے۔مخالفین سمجھتے تھے مسلمانوں کے پاس جتھا نہیں ہے، مال ودولت نہیں ہے، سامان نہیں ہے، وسائل نہیں ہیں، کوئی ان کا سہارا نہیں ہے۔وہ چونکہ دنیا کے بندے تھے اس لئے دنیوی