خطباتِ ناصر (جلد3 ۔ 1970ء، 1971ء)

by Hazrat Mirza Nasir Ahmad

Page 410 of 586

خطباتِ ناصر (جلد3 ۔ 1970ء، 1971ء) — Page 410

خطبات ناصر جلد سوم ۴۱۰ خطبہ جمعہ ۴/دسمبر ۱۹۷۰ء بھی۔لیکن ایک چیز ہے جس کے راستے میں کوئی روک نہیں ہے کہ جتنا چاہیں ہم اپنے بھائیوں کے لئے دعا کر سکتے ہیں۔تو ان کے دعا کریں ان کے لئے بے انتہا دعا کریں کہ اللہ تعالیٰ ان کو صبر کی توفیق دے اور اللہ تعالیٰ ان کو اگر ابتلا مقدر ہوں تو ان میں pass ( کامیاب ) کرے اور اپنا فضل اور رحم کرے اور آئندہ انہیں بھی اور ہمیں بھی اور ہر ملک کے باشندوں کو تمام بنی نوع انسان کو ہلاکت اور تباہی اور ابتلاء اور امتحان سے محفوظ رکھے وہ بڑا رحم کرنے والا ہے۔دوسرے آپ جتنا چاہیں آپ دعا کر سکتے ہیں۔اس میں کوئی روک نہیں کہ اللہ تعالیٰ ہمارے ملک کے حالات درست کرے اور درست رکھے اس وقت جیسا کہ گذشتہ شام پریذیڈنٹ بیٹی صاحب نے بھی کہا اور یہ ایک حقیقت ہے کوئی سمجھدار اس سے انکار نہیں کرسکتا کہ بڑے ہی اہم دور میں سے یہ ملک اس وقت گذر رہا ہے۔انتخابات ہونے والے ہیں۔جذبات کو ابھارا جارہا ہے جذبات بھڑکیں گے۔آگ جلے گی کچھ شعلے بعد میں بھی باقی رہیں گے اگر ہم بے وقوفی کریں۔اگر ہم حماقت کریں اگر ہم تو جہ نہ کریں تو یہ ہو گا لیکن اگر ہم قوم کا دردر کھتے ہوں اور قوم کے لئے ہم کام کرنے کے لئے تیار ہوں اور قوم کو مصیبت میں ڈالنے کی خواہش نہ ہو بلکہ ان کی خدمت کرنے کی اور ان کے لئے بھلائی اور خیر کے سامان پیدا کرنے کی نیت ہو تو ہمیں صبر سے کام لینا پڑے گا اور ہمیں نفرت اور غصہ کے جذبات کو بھڑکا نانہیں چاہیے۔اس سے پر ہیز کرنا پڑے گا تو خصوصاً ان دنوں میں یہ دعا ہونی چاہیے کہ اللہ تعالیٰ ہمارے ملک پر رحم کرے اور جو الیکشنز میں حصہ لے رہے ہیں ان کو یہ سمجھ دے کہ یہ ان کی ذات کا یا پارٹی کا معاملہ نہیں بلکہ ملک کا معاملہ ہے۔ہار جیت تو دیکھیں کہ کس کی ہوتی ہے لیکن ایک شریف انسان جب جیتا ہے تو متکبر نہیں بنتا اور غرور اس کے دل میں پیدا نہیں ہوتا بلکہ جیت کو اللہ تعالیٰ کی رحمت سمجھتے ہوئے خدا کے لئے اس کے حکم کے مطابق وہ عاجز ان راہوں کو اختیار کرتا ہے اور وہ جو نہیں جیت سکا وہ یہ سمجھتا ہے کہ یہ دنیا تو عارضی ہے یہاں کی جیت ہار کوئی حقیقت نہیں رکھتی۔ہمیں آئندہ کے متعلق فکر کرنی چاہیے۔وہ بشاشت کے ساتھ اور شرافت کے ساتھ اپنی شکست کو تسلیم کرتا ہے اور جو بہادر ہیں ایسے بہادروں سے ہماری تاریخ بھری پڑی ہے وہ جیتنے والے مد مقابل کو جا کر مبارک باد دیتے ہیں۔ان سے گلے ملتے ہیں وہ کہتے ہیں الیکشن کی لڑائی تھی ہماری