خطباتِ ناصر (جلد3 ۔ 1970ء، 1971ء) — Page 408
خطبات ناصر جلد سوم ۴۰۸ خطبہ جمعہ ۴/دسمبر ۱۹۷۰ء اور تڑپ رکھتا ہے۔انسان کی یہ فطرت کے اندر ہے۔آپ چرندوں کو لیں ، پرندوں کو لیں، درندوں کولیں، مچھلیوں کو لیں یعنی اگر ان کا مطالعہ کریں تو آپ کو یہ نظر آئے گا کہ کسی اور جاندار مخلوق میں یہ خواہش نہیں پیدا ہوتی کہ خود نہ کھائے اور اپنی نوع کے دوسرے افراد کو کھلائے۔انسان نے گھوڑے مسخر کئے۔گھوڑوں نے بڑا کام کیا اور اب بھی وہ کام دے رہے ہیں۔باوفا جانور ہے۔اور ہمارے دل میں اس کے لئے اس وجہ سے پیار ہے کہ اس نے اس وقت اسلام کی خدمت کی جب دنیا کی بڑی طاقتیں اسلام کے خلاف تلوار چلا رہی تھیں اور اس وقت انہوں نے بڑا کام کیا اور بڑی خدمت کی۔اللہ تعالیٰ نے اس وقت کے مسلمان کو توفیق دی گھوڑے مسخر کرنے کی اور گھوڑے کو یہ توفیق دی کہ اللہ تعالیٰ کی راہ میں جو مجاہدہ کر رہے ہیں ان کی خدمت کرے۔کتابوں میں لکھا ہے کہ گھوڑوں کو باندھ کر یہ دیکھنا چاہیے کہ کیا وہ ایک دوسرے کا کھانا کھانے کی کوشش تو نہیں کرتے؟ کیا یہ بات ان کے اندر ہے۔ان کی کوئی ایسی فطرت نہیں ہے کہ ایک دوسرے کے لئے قربانی دیں۔بلکہ کئی پیٹو گھوڑے، کئی بے صبرے گھوڑے اس خیال سے کہ کہیں دوسرا گھوڑا زیادہ نہ کھالے وہ خود زیادہ کھانے کی کوشش کرتے ہیں۔اسی طرح اگر آپ کے گھر کے صحن میں جہاں چڑیوں کو کھانے کے لئے ملے صبح کے وقت یا غروب آفتاب سے قبل اور وہ رات کا کھانا کھا رہی ہوں تو وہاں آپ دیکھیں گے کہ وہ ایک دوسرے کو پرے دوڑانے کی کوشش کرتی ہیں۔کوئی ایسا نہیں کرتی کہ ایک جگہ دانہ پڑا ہوا ہو اور ایک چڑیا پرے ہٹ جائے اور دوسری کو کہے کہ تم آکر کھالو نہیں ، یہ ان کی فطرت کے اندر نہیں ہے۔لیکن یہ انسان کی فطرت کے اندر ہے کہ وہ اپنے بھائی سے ہمدردی کرتا ہے۔۔۔۔ویسے تو وہ اللہ تعالی کی ساری مخلوق سے ہی ہمدردی کرتا ہے۔لیکن وہ اپنے بھائی سے سب سے زیادہ ہمدردی کرتا ہے۔اللہ تعالیٰ نے انسان کو بڑی عجیب فطرت دی ہے یہ بھی اس کا احسان ہے۔وہ دوسروں کے لئے اپنے اموال بھی خرچ کرنا چاہتا ہے۔یہ اس کی فطرت کا تقاضا ہے میں یہ نہیں کہتا کہ سارے خرچ کرتے ہیں۔کیونکہ بہت سی فطرتیں مسخ ہو جاتی ہیں یا بہت سی فطرتیں ایسی ہوتی ہیں جن کی صحیح تربیت نہیں ہوتی لیکن اس کے نتیجہ میں یہ نہیں ہم کہہ سکتے کہ فطرت ایسی ہے۔ہم اس کے نتیجہ میں یہ کہتے کہ فطرت تو صحیح تھی لیکن حالات نے یا