خطباتِ ناصر (جلد3 ۔ 1970ء، 1971ء) — Page 366
خطبات ناصر جلد سوم ۳۶۶ خطبه جمعه ۱٫۲ کتوبر ۱۹۷۰ء بارہ لاکھ ہونا چاہیے۔بعض زمینداروں نے تو اپنے وعدے لکھوا دیئے ہیں اور بعض مجھے یقین ہے کہ ہچکچائے اور اچھا کیا کہ انہوں نے ابھی وعدے نہیں لکھوائے ہوسکتا ہے کہ وہ پانچ سو نقد ادا کر دیں پھر اگلی فصل کا انتظار کریں پھر اللہ تعالیٰ اس میں برکت ڈالے تو پانچ صدا دا کر دیں۔بہر حال نومبر سے پہلے بارہ لاکھ کے قریب رقم آنی چاہیے وہ آپ یادرکھیں خدا سے آپ نے وعدہ کیا ہے اس کو پورا کریں اور جو یہ منصوبہ ہے نصرت جہاں ریز روفنڈ کا یہ تو بنیاد ہے نا اس کے اوپر عمارت بنی ہے وہ اور چیز ہے۔اس کے اوپر عمارت بنی ہے تیس چالیس ہسپتالوں کی اور اس کے او پر عمارت بنی ہے سنتر، انٹی، نو نے تو نئے ہائی سکولوں کی اور باہر کے ملکوں کی رقوم کو ابھی میں نے شامل نہیں کیا۔بہت سے عیسائی پیراماؤنٹ چیف ایسے ہیں جنہوں نے لکھا ہے کہ زمین بھی ہم مفت دیں گے اور تعمیر بھی ہم مفت کر کے دیں گے (اور وہ ہمارے نام رجسٹری بھی کروا دیتے ہیں )۔آپ یہاں ڈاکٹر بھیجیں کیونکہ یہاں ڈاکٹروں کی بڑی ضرورت ہے۔ان کی قیمتوں کا تو اندازہ نہیں ہمارے ملک کے لحاظ سے لاکھ لاکھ روپے کی وہ زمین اور عمارت ہے وہ ہم نے شمار نہیں کی ایسے ایسے وعدے ہیں جو انہوں نے کئے ہیں۔اللہ تعالیٰ جب قبول کرتا ہے اپنے بندہ کی عاجزانہ پیش کش کو تو اس کے دو نتیجے برآمد ہوتے ہیں ایک یہ کہ اس میں برکت پڑتی ہے اور دوسرے یہ کہ حاسد پیدا ہو جاتے ہیں۔حاسد بھی پیدا ہور ہے ہیں اور عیسائی ، بد مذہب ، مشرک جو ہیں وہ مائل بھی ہورہے ہیں تو قبولیت کے دونوں نتیجے جو نکلنے چاہئیں وہ نکل رہے ہیں۔لیکن لا فَخْرَ، ہمیں یہی تعلیم دی گئی ہے کہ ہمیں کوئی فخر نہیں ہے اپنی کوئی ذاتی خوبی نہیں ہے نہ مجھے میں ہے نہ آپ میں ہے اللہ تعالیٰ کا فضل ہے تمام حسن واحسان کا وہی سر چشمہ ہے اس کا انعکاس کہیں زیادہ چمک کے ساتھ ظاہر ہو جاتا ہے کہیں ذرا مدہم شکل میں انعکاس ہو جاتا ہے سب اسی کے سائے ہیں سبھی اس کے انعکاس ہیں اسی کی روشنی کی چمکا رہے تو تکبر اور غرور اور فخر اور ریا جیسے شیطانی وسوسے دل میں نہیں پیدا ہونے چاہئیں۔اللہ فضل کر رہا ہے ہم اس کے عاجز بندے ہیں وہ فضل کرتا چلا جائے گا کیونکہ اس نے خود یہ کہا ہے کہ میں اس وقت تک جماعت احمد یہ پر فضل کرتا چلا جاؤں گا جب تک کہ تمام دنیا کے عیسائی تمام دنیا کے دھر یہ اور تمام دنیا کے بد مذہب جو