خطباتِ ناصر (جلد3 ۔ 1970ء، 1971ء) — Page 362
خطبات ناصر جلد سوم ۳۶۲ خطبه جمعه ۱٫۲ کتوبر ۱۹۷۰ء اپنے وقت تک پاکستان سے وصول ہونے چاہئیں اس وقت جو مجھے دوستو د دوست چاہیے تھے جو پانچ پانچ ہزار روپیہ کے وعدے کرنے والے ہوں ان میں سے ابھی صرف ایک سو اکتالیس دوست آگے آئے ہیں دو سو جنہوں نے دو دو ہزار کا وعدہ کرنا تھا وہ قریباً پورے ہو چکے ہیں ان ١٩٦ کے ایک سو چھیانوے وعدے ہو چکے ہیں۔میرا خیال ہے کہ اس مہینہ میں وہ پورے ہوجائیں گے لیکن میرے لئے یہ بڑی خوشی کی بات ہے اور آپ کے لئے بھی خوشی کی بات ہونی چاہیے کہ ۵۰۰۰ میرا اندازہ تھا کہ جماعت میں سے صرف ایک ہزار آدمی شاید ایسا نکلے جو پانچ سوروپیہ فی کس کا وعدہ کرے اور ادا کرے اس کے مقابلہ میں اللہ تعالیٰ نے تمھیں سو کو یعنی اس سے اڑھائی گنا زیادہ کو توفیق دی ہے کہ وہ پانچ پانچ سو کا وعدہ کریں اور وہ وعدے پورے کر رہے ہیں انہوں نے اخلاص سے وعدے کیے ہیں ان اڑھائی ہزار میں سے (میرا خیال ہے ) کئی سو ایسے ہیں جو پانچ پانچ سو روپے سے بڑھ کر دو ہزار تک آجائیں گے یعنی وہ ( دو ہزار فی کس تک ) آسکتے ہیں جس دن بھی میں نے ان کو توجہ دلائی وہ انشاء اللہ تعالیٰ اس صف میں آجائیں گے اور پندرہ ہیں آدمی جن کو اللہ تعالیٰ نے طاقت دی ہوئی ہے تیس چالیس پچان ہزار دینے کی وہ بھی پانچ ہزار پر آ کر ٹھہر گئے ہیں۔پتہ نہیں کیوں؟ شاید ان کو ذکر کے حکم کے مطابق یاددھانی نہیں کرائی گئی لیکن میں ان کو چھوڑتا ہوں چندہ دینے والے کی نسبت یہ فکر تو ہوتی ہے کہ وہ پیچھے نہ رہ جائے لیکن یہ مجھے فکر نہیں ہے کہ اگر پیسے ہی ہیں تو زیادہ کہاں سے آئیں گے۔مجھے پیسے آپ نے نہیں دینے کیونکہ آپ نے مجھے خلیفہ نہیں بنایا اللہ تعالیٰ نے مجھے خلیفہ بنایا ہے اور وہ مجھے پیسے دیتا ہے اپنے کاموں کے لئے اور وہ دے گا اس لئے اس کی تو مجھے کوئی فکر نہیں ہے۔لیکن اس شخص کے متعلق فکر ہو جاتی ہے کہ جسے اللہ تعالیٰ نے زیادہ دینے کی توفیق دی تھی وہ پیچھے کیوں رہ رہا ہے اور تین سو ایسے ہیں جنہوں نے پانچ سو کا وعدہ کیا ہے اور وہ روزانہ بڑھتے جا رہے ہیں۔آج کی رپورٹ میں بھی شاید دس پندرہ ہیں جو پانچ پانچ سو کا وعدہ کرنے والے ہیں۔ابھی تو بعض پہلو ایسے ہیں جن کا میں نے اظہار نہیں کیا بعض جماعتیں اور بعض علاقے ایسے ہیں جن کو میں نے ابھی توجہ نہیں دلا کی مثلاً زمیندار ہیں جب ان کی خریف کی فصل ان کے گھروں