خطباتِ ناصر (جلد3 ۔ 1970ء، 1971ء)

by Hazrat Mirza Nasir Ahmad

Page 360 of 586

خطباتِ ناصر (جلد3 ۔ 1970ء، 1971ء) — Page 360

خطبات ناصر جلد سوم ۳۶۰ خطبه جمعه ۲/اکتوبر ۱۹۷۰ء کرو بلکہ تم رحم کرو جس کے وہ مستحق ہیں ہمدردی کرو جس کے وہ مستحق ہیں ان کی اصلاح کی کوشش کرو جس کے وہ مستحق ہیں پاکستان کی فضا کو پاک کرنے کی کوشش کرو ہمارے ملک کی فضا اس بات کی مستحق ہے کیونکہ ہم اس میں رہ رہے ہیں جس فضا میں ایک احمدی سانس لے رہا ہو وہ پاک ہونی چاہیے۔اس واسطے پاکستان کی فضا پاک ہونی چاہیے کیونکہ احمدی اس میں سانس لے رہے ہیں اور پاک کرنے کا آپ ” آلہ ہیں۔کوشش کریں کہ کوئی تلخی باقی نہ رہے سب کے سب ایک دوسرے سے پیار کرنا سیکھیں اختلاف اپنی جگہ پر ہے سیاسی اختلاف اتنے اہم نہیں ہوتے کہ ایک دوسرے کے گریبانوں پر ہاتھ ڈالے جائیں۔دعائیں کریں کہ اللہ تعالیٰ ایسے لوگوں کو سمجھ عطا کرے امن اور محبت اور پیار اور آشتی کی فضا میں ہمارے انتخابات لڑے جائیں پھر عوام کی اکثریت جدھر ہو ان کی خواہشات کے مطابق اسلامی حدود کے اندر رہتے ہوئے ہمارا دستور بھی بنے اور ہمارے قوانین بھی بنیں اور اس روح کے ساتھ اور اس محبت کے ساتھ اور اخلاص کے ساتھ ان قوانین کا اجراء ہو اور ایک پاک اور نہایت ہی حسین اور پیارا معاشرہ ہمارے ملک میں قائم ہو جائے۔یہ ہم چاہتے ہیں اور اس کے لئے ہمیں کوشش کرنی چاہیے یہ تو ہمارا کام ہے لیکن اس سے بہت اہم ذمہ داریاں ہمارے اوپر اللہ تعالیٰ نے ڈالی ہیں اسی سلسلہ کی ایک کڑی نصرت جہاں ریز روفنڈ ہے۔آج میں اسی سلسلہ میں دو باتیں کہنا چاہتا ہوں۔ایک یہ ہے کہ جس نے دوسری منزل بنانی ہو وہ پہلی منزل کو کمزور نہیں کیا کرتا جو کام ہمارے جاری ہیں ان میں کمزوری نہیں آنی چاہیے پختگی نہ صرف قائم رہنی چاہیے بلکہ اور زیادہ اس کو پختہ کرنا چاہیے جو کام ہمارے جاری ہیں جیسے صدرانجمن احمدیہ کے وہ کام جو مجلس شوری کے موقع پر پاس ہوئے ہیں پھر تحریک جدید کے کام ہیں پھر وقف جدید کے کام ہیں پھر فضلِ عمر فاؤنڈیشن کا کام ہے (اگر چہ اس نے مزید عطا یا وصول نہیں کرنے لیکن وہ کام ابھی جاری ہے ) الغرض جو کام جاری ہیں ان کے اندر کمزوری نہیں آنی چاہیے پہلے سے زیادہ ان میں تیزی پیدا ہونی چاہیے پہلے سے زیادہ پختگی ان میں پیدا ہونی چاہیے۔یہ کام جو ہیں ان کا بہت بڑا حصہ اموال کا مطالبہ کرتا ہے اس کے لئے ہمارے لازمی چندے ہیں یا دوسرے چندے ہیں وہ بجٹ