خطباتِ ناصر (جلد3 ۔ 1970ء، 1971ء) — Page 359
خطبات ناصر جلد سوم ۳۵۹ خطبه جمعه ۲/اکتوبر ۱۹۷۰ء وہ ( یعنی بعد میں آنے والے ) اک سے کڑور ہو گئے ، ہزار کا سوال ہی نہ رہا۔تو ساری دنیا کی مخالفتوں اور مخالفانہ منصوبوں اور کفر کے فتوؤں اور واجب القتل ہونے کے نعروں کے درمیان اس شخص کا کون سہارا بنا واضح ہے کہ وہ اللہ تعالیٰ تھا اور تو کوئی ہو نہیں سکتا اس کی طاقت میں ہے ہر چیز اور وہ خدا جو ہمارا محبوب اور محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا محبوب خدا تھا وہ ہمارا محبوب آج بھی اسی طرح طاقتور اور زندہ اور تمام قدرتوں کا مالک ہے خدا تو نہیں مر گیا نہ اس کے اندر بے وفائی ہے اور نہ اس کے اندر کمزوری پیدا ہوتی ہے اور نہ ہوسکتی ہے تو اللہ تعالیٰ کی طاقتیں اپنی جگہ پر ہیں ، مخالف کے منصوبے اپنی جگہ پر ہیں ، جماعت کا اخلاص اپنی جگہ پر ہے۔پس ہمیں اپنے اخلاص کی فکر کرنی چاہیے۔دنیا کی کوئی طاقت نہیں ہے جو ہمارے خلاف کامیاب ہو سکے لیکن ہم اپنی مٹی آپ خراب کر سکتے ہیں اگر ہمارے اندر اخلاص نہ رہے اگر ہم خدا تعالیٰ کے بندے نہ رہیں ، اگر ہم اللہ تعالیٰ کی منشا کے مطابق اپنی زندگیوں کو گزارنے والے نہ ہوں ، تو اپنی ہلاکت کے سامان ہم خود پیدا کر دیں گے لیکن جو اخلاص پر قائم رہیں گے اور جو اللہ تعالیٰ سے پیار کرتے رہیں گے اور وہ جو اس کی خاطر اپنا سب کچھ قربان کرتے ہوئے اسْلَمْنَا لِرَبِّ الْعَلَمِينَ “ کا وور نعرہ لگاتے رہیں گے طاقتور خدا ان کے ساتھ رہے گا اور وہ لوگ اللہ تعالیٰ کی طاقت اور قدرت اور عزت کے نظارے دیکھتے رہیں گے ان نظاروں کو ہم سے پہلے اسی سال سے جماعت دیکھ رہی ہے۔یہ ایک حقیقت ہے کوئی عظمند اس کا انکار نہیں کر سکتا۔تو یہ جو منصوبے یا نعرے یا سکیمیں یا اعلان کہ ہم احمدیوں کو قتل کر دیں گے ہمیں اس سے ہرگز کوئی غصہ نہیں پیدا ہونا چاہیے یہ کھو کھلے نعرے ہیں جو پورے نہیں ہو سکتے انی سالہ احمدیت کی زندگی اور تاریخ شاہد ہے اس بات پر کہ ایسے نعرے احمدیت کے خلاف کامیاب نہیں ہو سکتے۔ہاں افراد کو قربانی دینی پڑتی رہی ہے حضرت آدم علیہ السلام سے لے کر اس وقت تک۔سو جماعت کے افراد کو بھی قربانی دینی پڑے گی اس کے لئے ہر فرد کو تیار رہنا چاہیے اور بشاشت کے ساتھ تیار ہنا چاہیے لیکن اگر کہا جائے کہ احمدیت کو تباہ کر دیا جائے گا یہ ناممکنات میں سے ہے۔کیونکہ خدا کی مرضی کے خلاف ہے وہ جو چاہتا ہے ( عَلى كُلِّ شَيْءٍ قَدِيرٌ ) وہ کر کے چھوڑتا ہے تو کسی پر غصہ نہیں کرنا کوئی وجہ نہیں کہ تم غصہ