خطباتِ ناصر (جلد3 ۔ 1970ء، 1971ء) — Page 348
خطبات ناصر جلد سوم ۳۴۸ خطبہ جمعہ ۲۵ ستمبر ۱۹۷۰ء ہچکچاہٹ کے بغیر اسی طرف چلتے چلتے اپنا گھوڑا دریا میں ڈال دیا اور ان کے پیچھے کئی ہزار کی جو گھوڑا سوار فوج تھی انہوں نے بھی گھوڑے دریا میں ڈال دیئے اللہ تعالیٰ نے فضل کیا بغیر کسی جانی نقصان کے گھوڑے دوسرے کنارے جا لگے اور آپ نے دشمن کو قلعہ بند ہونے کا موقعہ نہیں دیا اور اس پر فتح پالی حالانکہ ان کے مقابلے میں اس شہر میں ایرانیوں کی بہت بڑی فوج تھی حضرت سعد بن وقاص کی یہ کتنی بڑی قربانی تھی آپ نے اپنے گھوڑے کو ٹھاٹھیں مارتے ہوئے دریا میں ڈال دیا گویا اپنے آپ کو موت کے منہ میں ڈالنا تھا اور پھر ایسے حال میں کہ پر لی طرف ایرانی گھوڑے ہیں ہزار قسم کے خطرے ہیں لیکن انہوں نے اپنے عمل سے ثابت کر دکھایا کہ گویا انہیں احساس بھی نہیں تھا کہ کوئی خطرہ بھی ہے اپنی طرف سے وہ زندگی سے موت کی دنیا میں جانے کے لئے تیار ہو گئے لیکن اللہ تعالیٰ نے فضل فرما یا اللہ تعالیٰ نے انہیں بچالیا اور کامیابی بھی عطا فرمائی انہیں اس بات کا کامل یقین اور پختہ احساس تھا کہ جتنی یقینی یہ زندگی ہے اس سے کم یقینی اگلی زندگی نہیں ہے اور اگر ہم نے اس کے بعد دوسری زندگی کو پانا ہے اور اللہ تعالیٰ کے حضور پیش ہونا ہے تو پھر جو بشارتیں اس نے دی ہیں اور ان بشارتوں کے مقابلے میں ہم سے جن قربانیوں کا مطالبہ کیا ہے ہمیں وہ قربانیاں دینی چاہئیں تا کہ وہ بشارتیں ہمیں مل جائیں اس دنیا کی بشارتیں بھی اور اُس دنیا کی بشارتیں بھی۔غرض اللہ تعالیٰ نے وَابْتَغِ فِيمَا أَنكَ اللهُ الدَّارَ الْآخِرَةَ (القصص : ۷۸) تمہیں جو کچھ بھی دیا گیا ہے مادی سامان یا جسمانی اور روحانی قوتیں اور طاقتیں ان سب کے ذریعہ دار آخرت کی نعماء کے حصول کی کوشش کرو۔دوسری آیت میں اللہ تعالیٰ فرماتا ہے وَمَنْ أَرَادَ الْآخِرَةَ وَسَعَى لَهَا سَعيها الخ ( بنی اسراءیل : ۲۰) جو اس حکم کے نتیجہ میں اور آخرت کی نعماء کی خواہش رکھے وسطی کھا سکا اور محض خواہش ہی نہ ہو بلکہ دار آخرت کی نعماء کے حصول کے لئے جس قسم کی کوشش اور مجاہدہ کی ضرورت ہے اور جس کا حکم دیا گیا ہے وہ کوشش اور مجاہدہ بجالائے ایسے حال میں کہ وہ مومن ہو یعنی آخرت پر بھی اس کا ایمان پختہ ہو۔یہاں هُوَ مُؤْمِنٌ کے ایک معنے ہم یہ بھی کریں گے کہ آخرت پر اس کا ایمان پختہ ہو دل میں شیطانی وسوسہ نہ ہو کہ پتہ