خطباتِ ناصر (جلد3 ۔ 1970ء، 1971ء) — Page 347
خطبات ناصر جلد سوم ۳۴۷ خطبه جمعه ۲۵ ستمبر ۱۹۷۰ء ہیں میں نے کئی بار بتایا ہے کہ ایسا محسوس ہوتا ہے کہ ہمارے لئے سونے والے کمرے سے بیٹھنے والے کمرے تک جانا شاید دل میں کچھ کوفت کا احساس پیدا کرے مگر ان لوگوں کے لئے اس دنیا سے نکل کر اس دنیا میں چلے جانا کوئی کوفت نہیں پیدا کرتا تھا وہ ہنستے کھیلتے اللہ تعالیٰ کی راہ میں سب کچھ قربان کر دیتے حتی کہ اپنی جان کی بازی تک لگا دیتے تھے ان کے نزدیک زندگی اور موت کے درمیان جو ایک بار یک سی لکیر ہے وہ نہ ہونے کے برابر تھی۔عجیب شان تھی ان لوگوں کی (رضوان اللہ علیہم ) اور عجیب شان ہے مخلصین جماعت احمدیہ کی بھی۔لیکن اگلی نسل یعنی بینگ جزیشن جو ہے مثلاً یہ جونو جوان میرے سامنے بیٹھے ہوئے ہیں ہمیں ان کی فکر رہتی ہے کیونکہ انہیں حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کی براہِ راست تربیت نہیں ملی۔پھر بعض دفعہ جماعتیں سستی کرتی ہیں لوگ اپنی اولاد کی تربیت کی طرف کما حقہ متوجہ نہیں ہوتے اور جب ایسے بچے بڑے ہو جاتے ہیں تو جسمانی طور پر گھر یلو حالات کے لحاظ سے ان کو بھی تنگ کرتے ہیں اور روحانی طور پر بھی ان کے لئے تکلیف کا باعث بنتے ہیں جب ہم صحابہ کرام کی زندگی کے حالات پڑھتے ہیں تو میں نے بتایا ہے کہ ایک عجیب کیفیت پیدا ہوتی ہے ایک سرور کی بھی اور عقل بھی حیران ہوتی ہے۔کیا تھے وہ لوگ؟ حضرت سعد بن وقاص ایران میں لڑ رہے تھے انہوں نے ایک جگہ حملہ آور ہونا تھا راستے میں ایک دریا تھا جس کے اوپر ایک پل بنا ہوا تھا اس پل پر سے انہوں نے اپنی فوج کے ساتھ گزرنا تھا چنانچہ انہوں نے اپنا ایک ہر اول دستہ بھیجا کہ اس پل کو جا کر سنبھال لو تا کہ دشمن اسے اڑا نہ دے لیکن اس دستہ کے سردار ایک نوجوان تھے۔انہیں حکم تو یہ تھا کہ راستے میں لڑنا نہیں مگر انہوں نے غلطی کی ایرانیوں کا ایک دستہ نظر آیا اور اس سے یہ الجھ گئے اور اس پل تک نہ پہنچ سکے اتنے میں دشمن کو پتہ لگ گیا اس نے پل کو اڑا دیا۔اب یہ بزرگ صحابی اپنے گھوڑے پر سوارا اپنی فوج کے آگے آگے جارہے تھے کوئی بیس ہزار کے قریب فوج تھی جس وقت یہ اس جگہ پہنچے جہاں پل تھا تو سامنے ایرانی اپنے آپ کو بڑے محفوظ سمجھتے ہوئے قلعہ بند ہونے کی بجائے دریا کے کنارے تماشہ دیکھنے کے لئے جمع تھے کہ وہ دیکھیں کہ اب مسلمان کیا کریں گے ہم نے پل اڑا دیا ہے لیکن حضرت سعد بن وقاص نے ایک لمحہ کی