خطباتِ ناصر (جلد3 ۔ 1970ء، 1971ء) — Page 346
خطبات ناصر جلد سوم ۳۴۶ خطبه جمعه ۲۵ ستمبر ۱۹۷۰ء انعام مل جانا ہے وہ لوگ بھی محروم نہیں جنہوں نے اس دنیا میں بظاہر شہادت پائی یا جنہوں نے قربانیاں دیں اور نتیجہ نکلنے سے پہلے ان کی طبعی طور پر وفات ہوگئی کیونکہ جو پندرہ سال تک قربانیاں دینے کے بعد زندہ رہا اور اللہ تعالیٰ کی طرف سے اس دنیا کی نعمتوں سے نوازا گیا ہے اس سے پہلے اس شخص نے اپنا بدلہ پالیا جو شہید ہو گیا یا خلوص نیت سے قربانیاں دیتے ہوئے طبعی موت مرگیا کیونکہ اس کے انعامات اس کی موت کے ساتھ ہی شروع ہو گئے اور وہ جو دوسرا ہے اسے پندرہ سال تک اور انتظار کرنا پڑا پس یہ بات نہیں کہ جو زندہ رہاوہ فائدہ میں رہا۔حقیقت یہ ہے کہ جو فوت ہو گیا وہ فائدہ میں رہا اگر اس کی سعی مشکور ہے اگر اللہ تعالیٰ نے اسے قبول کر لیا ہے تو وہ فائدہ میں ہے۔پس ایمان بالآخرۃ نہایت ضروری حکم ہے اور اس کے بغیر الہی سلسلے یا جماعتیں یا ان کے افرا د بشاشت کے ساتھ قربانیاں نہیں دے سکتے۔اللہ تعالیٰ نے قرآن کریم میں ایک جگہ فرمایا :۔وَابْتَغ فِيمَا الكَ اللهُ الدَّارَ الْآخِرَةَ (القصص: ۷۸) یہ میں نے آیت کا ایک ٹکڑا لیا ہے اس سے آگے ویسے یہ بھی ہے۔وَلَا تَنْسَ نَصِيبَكَ مِنَ الدُّنْيَا وَ أَحْسِنُ كَمَا أَحْسَنَ اللهُ اليك الخ لیکن میں نے پہلا ٹکٹڑ لیا ہے اس میں اللہ تعالیٰ نے یہ حکم دیا ہے کہ ہم نے تمہیں جو کچھ دیا ہے (فیما اتك ) اس کے ذریعہ آخرت کی نعماء کے حصول کی کوشش کرو ( وابتغ )۔اس دنیا کی ہر چیز اللہ تعالیٰ کی عطا کردہ ہے ہماری یہ زندگی ہمارا جسم اور اس کی طاقتیں، ہمارا ذہن اور اس کی طاقتیں ہماری روح اور اس کی طاقتیں یہ سب اللہ تعالیٰ کی عطا ہے گھر سے تو کچھ نہیں لائے۔اس لئے اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ مادی اسباب جو تمہیں دیئے گئے ہیں اور قوتیں اور استعداد یں جو تمہیں عطا ہوئی ہیں ان کے ذریعہ سے تم دار آخرت کی نعماء کے حصول کی کوشش کرو۔پس اللہ تعالیٰ کے اس حکم کو ماننا ضروری ہے آخرت پر ایمان لانا ضروری ہے اس کے بغیر الہی سلسلے نہ قربانیاں دے سکتے ہیں اور نہ وہ نتائج پیدا ہو سکتے ہیں جو اللہ تعالیٰ ان کے ذریعہ سے پیدا کرنا چاہتا ہے۔صحابہ کرام کی زندگی پر جب ہم نگاہ ڈالتے ہیں تو انہیں ایمان بالآخرت میں بھی یکتا پاتے