خطباتِ ناصر (جلد3 ۔ 1970ء، 1971ء) — Page 337
خطبات ناصر جلد سوم ۳۳۷ خطبہ جمعہ ۱۱ستمبر ۱۹۷۰ء نے میرے اس بھائی پر فضل کیا اور مجھے یہ برداشت نہیں۔میں یہ کوشش کروں گا کہ اللہ تعالیٰ کے فضلوں میں سے جس حد تک اس سے چھین سکوں وہ میں چھین لوں اور اس کو نقصان پہنچاؤں۔اب ظاہر ہے کہ کسی انسان یا کسی مخلوق کو یہ طاقت نہیں ہے کہ وہ اللہ تعالیٰ کے فضلوں میں سے کوئی فضل چھین لے۔دینے والا جب اللہ تعالیٰ ہو اور وصول کرنے والا اس کا ایک بےنفس بندہ ہوتو پھر اس کے فضل تو نہیں چھینے جا سکتے لیکن ایسا شخص یا ایسا گروہ یا ایسی جماعت یا ایسا فرقہ یا ایسی تنظیم اپنی گمراہی اور اپنی تباہی کا سامان پیدا کر لیتی ہے۔اسی طرح ایک اور اپنے آپ کو مسلمان کہنے والی جماعت ہے۔جس کے متعلق یہ معلوم ہوا ہے کہ وہ یہ منصوبہ بنارہے تھے کہ ساری جماعت سے ہم نے کہاں لڑنا ہے جو اس وقت اس کا امام ہے اسے (معاذ اللہ ) قتل کر دیا جائے تو اس طرح ہم اپنے مقصد کو حاصل کر لیں گے۔یہ بھی ایک نادانی ہے۔اس دنیا کی کسی تنظیم کے امام سے جو مرضی کہہ لو۔ہمارے لئے یہ خلافت کا سلسلہ ہے اور جماعت احمدیہ کا امام اس کا خلیفہ وقت ہے لیکن جو بھی کہہ لو اس نے قیامت تک تو زندہ نہیں رہنا اور جب تک اس شخص کی جان لینے کے متعلق اللہ تعالیٰ کا منشاء نہ ہو دنیا کی کوئی طاقت اس کی جان نہیں لے سکتی جب خدا تعالیٰ اسے اس دنیا سے اٹھانا چاہے تو ساری دنیا مل کر بھی اگر اسے زندہ رکھنا چاہے تو اسے زندہ نہیں رکھ سکتی۔اس واسطے کسی شخص کا اس قسم کے منصوبے بنانا اس کی اپنی نالائقی یا ہلاکت کے سامان تو پیدا کر سکتا ہے لیکن اللہ تعالیٰ کی منشاء کے بغیر کسی کی جان نہیں لی جاسکتی۔سیدالانبیاء حضرت رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم اکیلے تھے کمزور تھے ،غریب تھے ، بے کس تھے اور سرداران مکہ اپنے آپ کو دنیا کے معیار کے مطابق بہت بڑا بلکہ فراعنہ مصر سمجھتے تھے ان میں سے ہر ایک سمجھتا تھا کہ میں فرعون ہوں اور سال ہا سال تک انہوں نے اپنی طرف سے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے خلاف بہت کوششیں کیں مگر آپ کا کچھ بگاڑ نہیں سکے البتہ اپنی ہلاکت کے سامان پیدا کر لئے۔جس شخص کو مکہ میں فنا کرنا چاہتے تھے اس شخص کے ہاتھوں اللہ تعالیٰ کے فضل سے مکہ فتح ہوا اور اس فتح مکہ کی شان یہ تھی کہ ان سرداروں نے حضرت محمد عربی صلی اللہ علیہ وسلم کے جھنڈے کے نیچے جمع ہو کر پناہ نہیں لی کیونکہ آپ کا اعلان یہ تھا کہ بلال کے جھنڈے کے نیچے