خطباتِ ناصر (جلد3 ۔ 1970ء، 1971ء)

by Hazrat Mirza Nasir Ahmad

Page 320 of 586

خطباتِ ناصر (جلد3 ۔ 1970ء، 1971ء) — Page 320

خطبات ناصر جلد سوم کس قدر قربانیاں دینی پڑیں گی؟ ۳۲۰ خطبہ جمعہ ۴ ستمبر ۱۹۷۰ء جب اللہ تعالیٰ کسی کو بشارت دیتا ہے تو اس کے ساتھ ہی قوم پر یا اپنے سلسلہ پر عظیم ذمہ داریاں بھی عاید کرتا ہے۔تاریخ نبوت میں یہ کبھی نہیں ہوا کہ اللہ تعالیٰ نے جو بشارت دی ہواس کو پورا کرنے کے لئے آسمان سے فرشتے نازل ہوں اور انسانی تدبیر کے بغیر وہ اپنا کام کر رہے ہوں یہ تو صحیح ہے کہ آسمان سے فرشتے نازل ہوتے ہیں اور وہ اپنا کام کرتے ہیں لیکن انسان کو بھی تدبیر کرنی پڑتی ہے۔اللہ تعالیٰ نے حضرت نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ بشارت دی تھی کہ کسریٰ اور قیصر کی سلطنتیں مغلوب ہوں گی اور وہاں اسلام غالب آئے گا۔اس وقت قریباً دس ہزار تربیت یافتہ صحابہ تھے جنہوں نے انتہائی قربانیاں دے کر ان پیشگوئیوں کو پورا کرنے کی تدبیر کی انہوں نے یہ نہیں سمجھا کہ اللہ تعالیٰ نے یہ بشارت دی ہے اور اللہ تعالیٰ قادر و توانا اور متصرف بالا رادہ ہے وہ آسمان سے صرف حکم دے کر ان سلطنتوں کو پاش پاش اور ٹکڑے ٹکڑے کر دینے کی طاقت رکھتا ہے۔وہ حکم دے گا اور یہ سلطنتیں ٹکڑے ٹکڑے ہو جائیں گی اور اسلام غالب آ جائے گا۔ہم آرام سے گھروں میں بیٹھے رہیں گے۔وہ اس حقیقت کو اچھی طرح جانتے تھے کہ بشارت کے ساتھ ذمہ داری آتی ہے اور جتنی عظیم بشارت ہو اتنی ہی عظیم ذمہ داری اور اتنی ہی انتہائی قربانی دینی پڑتی ہے اور ایثار پیشہ اور فدائی بن کر زندگی گزارنی پڑتی ہے۔چنانچہ انسان یہ دیکھ کر حیران ہو جاتا ہے کہ انہوں نے اسلام کو غالب کرنے کے لئے کیسی عظیم الشان قربانیاں دیں۔یہ ایک ایسی تربیت یافتہ قوم تھی جنہوں نے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم سے لمبی تربیت حاصل کی تھی ان کی تعداد بمشکل آٹھ دس ہزار تھی اور یہی وہ لوگ تھے جنکی قربانیوں کے نتیجہ میں اللہ تعالیٰ نے آسمان سے فرشتوں سے کام لیا کیونکہ یہ تدبیر کی دنیا ہے یہاں اللہ تعالیٰ کے ارادے باکل ظاہر ہو کر سامنے نہیں آیا کرتے ورنہ تو پھر دوسری زندگی یعنی جنت اور دوزخ کا جو ثواب ہے وہ رہے ہی نہ۔جب اللہ تعالیٰ کُن کہہ کر بارش برسا دیتا ہے اگر اسی طرح اس نے کن کہہ کر انسان کے دل میں اپنی محبت پیدا کر دینی ہوتی اور انسان کو کچھ نہ کرنا پڑتا تو پھر جو بارش برسنے کی جزا با دل کومل سکتی ہے وہی انسان کو ملتی۔اس سے زیادہ کا تو وہ حق دار نہ بنتا لیکن