خطباتِ ناصر (جلد3 ۔ 1970ء، 1971ء)

by Hazrat Mirza Nasir Ahmad

Page 319 of 586

خطباتِ ناصر (جلد3 ۔ 1970ء، 1971ء) — Page 319

خطبات ناصر جلد سوم ۳۱۹ خطبہ جمعہ ۴ ستمبر ۱۹۷۰ء جتنی عظیم بشارت ہو اتنی ہی عظیم ذمہ داری اور انتہائی قربانی دینی پڑتی ہے خطبه جمعه فرموده ۴ رستمبر ۱۹۷۰ء بمقام ایبٹ آباد تشہد وتعوذ اور سورۃ فاتحہ کی تلاوت کے بعد حضور انور نے فرمایا:۔میرے یہ خطبات اس نصیحت کے سلسلہ میں اور اس وضاحت کے بیان میں ہیں کہ اپنے ایمانوں کو پختہ کرو۔میں نے ربوہ میں گذشتہ خطبہ جمعہ میں ایمان بالغیب کے اس حصے پر روشنی ڈالی تھی کہ اس سے ایک مراد یہ بھی ہے کہ اللہ تعالیٰ جو سلسلہ قائم کرتا ہے اسے بشارتیں ملتی ہیں اور جو بشارتیں اسے ملتی ہیں ان پر پختہ یقین ہونا چاہیے جب تک ان بشارتوں پر پختہ یقین نہ ہو ہم بشاشت کے ساتھ وہ قربانیاں نہیں دے سکتے جن قربانیوں کا ہم سے مطالبہ کیا جاتا ہے۔گذشتہ جمعہ میں نے قرآن کریم کی آیات اور حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کو جو بذریعہ الہام اور وحی بشارتیں دی گئی ہیں ان کی روشنی میں اس مضمون کو بیان کیا تھا۔میں نے متعلقہ اقتباسات پڑھ کر نہیں سنائے تھے۔آج اسی خطبہ کے تسلسل میں تقمہ کے طور پر حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے الہامات میں سے بعض کو میں اس وقت پڑھ کر سناؤں گا تا کہ آپ میں سے اللہ تعالیٰ جنہیں سوچنے اور فکر و تدبر کرنے کی توفیق عطا کرے اور طاقت بخشے وہ غور کریں، سوچیں اور سمجھنے کی کوشش کریں کہ کیا وعدے ہیں؟ کس قدر عظیم بشارتیں ہیں اور ان کے لئے ہمیں