خطباتِ ناصر (جلد3 ۔ 1970ء، 1971ء)

by Hazrat Mirza Nasir Ahmad

Page 313 of 586

خطباتِ ناصر (جلد3 ۔ 1970ء، 1971ء) — Page 313

خطبات ناصر جلد سوم ۳۱۳ خطبه جمعه ۲۸ راگست ۱۹۷۰ء کریں گے علی الاعلان اس کا اظہار کریں گے لیکن یہ یادرکھو کہ وہ جو سب سہاروں سے زیادہ افضل اور زیادہ قابل بھروسہ اور جس پر زیادہ تو کل کیا جا سکتا ہے یعنی اللہ تعالیٰ اس کا سہارا ہمیں حاصل ہے اس واسطے کسی اور سہارے کی ہمیں ضرورت ہی محسوس نہیں ہوتی۔چونکہ انسانی زندگی (فرد کی زندگی نہیں میں کہہ رہا) میں بڑوں کے بعد چھوٹے ابھر رہے ہوتے ہیں ان میں اکثر وہ ہوتے ہیں جنہیں اپنی پہلی تاریخ کا علم نہیں ہوتا اس واسطے اگر کوئی ذراسی بھی آواز بلند ہو تو وہ سمجھتے ہیں کہ یہ محمد حسین بٹالوی اور نذیر حسین دہلوی سے بھی زیادہ بلند آواز ہے حالانکہ اگر آج بھی آپ ان لوگوں کے علماء ظاہر سے جا کر پوچھیں کہ آپ نے ان جیسے عالم پیدا کئے تو اغلباً وہ بھی جن میں تھوڑی بہت دیانتداری ہے وہ کہیں گے کہ نہیں وہ ہم سے زیادہ بڑے عالم تھے۔پس جو اس زمانے کے تمہارے نزدیک سب سے بڑے عالم تھے ان کے کفر کے فتوی نے سوائے اس کے کہ جو عورت کپڑ اسی رہی ہو اس کے ہاتھ میں کبھی سوئی چبھ جاتی ہے یا مرد اپنے کاغذ کو پہن لگائے تو ذرا چھ جاتا ہے جسے انگریزی میں پن پر کنگ کہتے ہیں اس سے زیادہ ہمیں کوئی تکلیف یا نقصان نہیں دیا۔سوئی بھی چھی، پن بھی چبھا تمہارے شور سے ہمارے دل دکھے ضرور کیونکہ یہ ایک طبعی چیز تھی یہ ایک اور مسئلہ ہے لیکن اس کے ساتھ تعلق رکھتا ہے اس لئے وہ میں بیان کر رہا ہوں جب اس قسم کی کوئی گندی گالی دی جاتی ہے اور حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام پر کفر کا فتویٰ لگایا جاتا ہے تو ہمارے جذبات ہیں یہ انسانی فطرت کا ایک حصہ ہیں بڑا سخت دکھ ہوتا ہے بعض دفعہ وہ نا قابل برداشت ہو جاتا ہے لیکن ہم اسے برداشت کرتے ہیں۔پس جہاں تک فطرت کا تقاضا ہے فطرت کا تقاضا پورا ہوتا ہے ہمیں بڑا سخت دکھ پہنچتا ہے لیکن جہاں تک اس دکھ اور ایذا دہی کے رد عمل کا تقاضا ہے اس میں ہمیں اللہ تعالیٰ کے حکم کے ماتحت چلنا پڑتا ہے اور ہمیں اللہ تعالیٰ نے حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے ذریعہ یہ حکم دیا ہے کہ گالیاں سن کر دعا دو پا کے دکھ آرام دو۔اس واسطے جو کوئی کفر کا فتو کی لگا تا ہے ہم اس کے لئے اور بھی زیادہ دعا ئیں شروع کر دیتے ہیں، ہمیں جس سے تکلیف پہنچتی ہے ہم اس کے لئے راحت