خطباتِ ناصر (جلد3 ۔ 1970ء، 1971ء) — Page 303
خطبات ناصر جلد سوم خطبه جمعه ۲۱ راگست ۱۹۷۰ء بیرونی دشمن آپ کو کبھی کوئی نقصان نہیں پہنچا سکے گا البتہ آپ کے دل کا چور آپ کو نقصان پہنچا سکتا ہے آپ کے دل کا نفاق آپ کو نقصان پہنچا سکتا ہے آپ میں دلی طور پر کمزور ایمان والا آپ کو نقصان پہنچا سکتا ہے لیکن بیرونی مخالفت آپ کو کوئی نقصان نہیں پہنچا سکتی اس کی فکر کرنی چاہیے۔پس آپ اپنی تربیت کی فکر کریں اور ان لوگوں کے لئے دعائیں کریں، کسی پر غصہ نہ کریں، کسی سے تمسخر نہ کریں اپنے آپ کو کچھ نہ سمجھیں اپنے دل میں ان لوگوں کے لئے بخع کی کیفیت پیدا کریں۔ان سے نفرت کی بجائے پیار پیدا کریں، بددعا کرنے کی بجائے ان لوگوں کو دعائیں دیں اللہ تعالیٰ ایک دن یہ دعائیں قبول کرے گا یہ اس کا وعدہ ہے پھر ہمارے مونہوں سے بھی انشاء اللہ وہ یہ کہلوائے گا۔لَا تَثْرِیبَ عَلَيْكُمُ الْيَوْمَ۔تمہیں نور نظر آ گیا اس لئے آج تمہارے ساتھ سارے جھگڑے ختم ہو گئے۔ہم کسی انسان کے دشمن نہیں لیکن اس دنیا میں ظلمت کو ہم برداشت نہیں کر سکتے اور نہ ہی یہ اس دنیا میں رہے گی اسی کے لئے ہماری زندگی اور اسی کے لئے ہماری موت ہے۔بالآخر میں حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے ایک اقتباس کو پڑھ کر اس خطبہ کو ختم کرتا ہوں۔آپ فرماتے ہیں ” یہ مت خیال کرو کہ خدا تمہیں ضائع کر دے گا۔تم خدا کے ہاتھ کا ایک بیج ہو جو زمین میں بویا گیا خدا فرماتا ہے کہ یہ بیج بڑھے گا اور پھولے گا اور ہر ایک طرف سے اس کی شاخیں نکلیں گی اور ایک بڑا درخت ہو جائے گا ( اس کا ایک نظارہ تو ہم دیکھ کر آئے ہیں۔دنیا کے ملک ملک میں اس درخت کی شاخیں ہیں جن کے اوپر احمدیت کے پرندے اور اللہ تعالیٰ کی جنت کے پرندے بسیرا کر رہے ہیں ) پس مبارک وہ جو خدا کی بات پر ایمان رکھے اور درمیان میں آنے والے ابتلاؤں سے نہ ڈرے کیونکہ ابتلاؤں کا آنا بھی ضروری ہے۔تا خدا تعالیٰ تمہاری آزمائش کرے کہ کون اپنے دعوی بیعت میں صادق اور کون کا ذب ہے۔وہ جو کسی ابتلاء سے لغزش کھائے گا وہ کچھ بھی خدا کا نقصان نہیں کرے گا اور بدبختی اسے جہنم تک پہنچائے گی اگر وہ پیدا نہ ہوتا تو اس کے لئے اچھا تھا مگر وہ سب لوگ جو اخیر تک صبر کریں گے اور ان پر مصائب کے زلزلے آئیں گے اور حوادث کی آندھیاں چلیں گی اور وو